کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے
کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے کب اذاں مرغ کے دینے سے سحر جاگے ہے کنکری مارے سے پانی میں اثر جاگے ہے اک ذرا خواہش پرواز سے پر جاگے ہے ان کو منبر کی بلندی سے تشفی نہ ہوئی جن کی آواز پہ تحریک کا سر جاگے ہے نیند کی کائی سے بوجھل ہے ہر اک آنکھ مگر سنگ کے خوف سے شیشے کا نگر جاگے ...