قومی زبان

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے میں چراغ جاں ہوں لیے ہوئے وہی شام شہر ملال ہے وہ مسافتیں بھی گزر گئیں کہ دعا کے پھول تھے ہاتھ میں یہ محبتوں کا دیار ہے یہی میرا مال و منال ہے ترے حرف حرف میں رمز ہے تری گفتگو بھی کمال ہے کبھی مل کے تجھ سے خوشی ملی کبھی تو ہی وجہ ملال ...

مزید پڑھیے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے سایہ کرتا ہوا سحاب آئے حرف مٹنے لگے ہیں ذہنوں سے پھر کوئی صاحب کتاب آئے جب کو ڈوبے ہوئے زمانہ ہوا یاد کچھ ایسے آفتاب آئے زندگی بحر بیکراں ہی سہی ہم تو بس صورت حباب آئے جیسے خالی مکاں پہ دستک ہو در و دیوار سے جواب آئے ورق زندگی پلٹتے رہے کامرانی کا ...

مزید پڑھیے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے احساس کی وادی میں کوئی صوت نہ صورت یہ منزل عرفان تک آنے کا صلہ ہے زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے اک خاک کے پیکر کا تماشہ ہے سڑک پر ہر شخص یہاں قہر کی تصویر بنا ہے مٹی ...

مزید پڑھیے

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا ڈوبتی آنکھوں کو یہ منظر بہت اچھا لگا درد کے پتھر سبھی آب رواں میں گھل گئے شور تھا کتنا مگر آنکھوں کو سناٹا لگا چار سو پھیلی ہوئی موج نفس کی گونج تھی مجھ کو پیاسی ریت کا صحرا بھی اک دریا لگا ان گنت سائے تری تصویر میں ڈھلتے گئے چاندنی جاگی تو ہر ...

مزید پڑھیے

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی چراغ ہجر سے روشن رہے گی رات اس کی زمین ہو کہ زماں سب اسی کے مہرے ہیں بچھی ہوئی ہے بہت دور تک بساط اس کی ہمارے ساتھ بھی ہوتے ہیں تجربے اس کے ہمارے حال میں شامل ہے واردات اس کی شکست و فتح میں کیا فرق ہے نہیں معلوم یہ کیا کہ جیت ہماری ہے اور مات اس ...

مزید پڑھیے

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو عجب پاگل سی اک پرچھائیں آتی ہے نظر ہم کو یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے چمکتی دھوپ میں سونا پڑا ہے رات بھر ہم کو ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو ابھی تھوڑا سا شاید اور کچھ ...

مزید پڑھیے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے ایک سناٹا مگر چھایا ہوا احساس پر ہے اک سمندر بے حسی کا ایک کشتی آرزو کی ہائے کتنی مختصر لوگوں کی روداد سفر ہے میں ازل سے چل رہا ہوں تھک گیا ہوں سوچتا ہوں کیا تری دنیا میں ہر منزل نشان رہ گزر ہے اس فصیل غم کو سر کرنے پہ بھی کیا مل سکے گا ایک ...

مزید پڑھیے

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے دیار غیر تمہارے لئے وطن کیوں ہے ہوائے شبنم و گل ہے تو بے خودی کیسی حصار ذات میں آشوب ما و من کیوں ہے بس ایک عکس نظارہ ہے انکشاف وجود کلاہ شیشہ گراں میں یہ بانکپن کیوں ہے نشاط بے طلبی جادۂ نجات ہوا خبر نہیں کہ اسی راہ میں چمن کیوں ہے لباس خاک شفق ...

مزید پڑھیے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے کہ وہ بت بھی نہیں پھر کس طرح پتھر میں رہتا ہے وہاں صحرا بھی ہے جنگل بھی دریا بھی چٹانیں بھی عجب دنیا بسا رکھی ہے وہ جس گھر میں رہتا ہے کھلے گی دھوپ جب پرچھائیاں پیڑوں سے نکلیں گی یہ منظر بھی اسی سمٹے ہوئے منظر میں رہتا ہے بلند و پست کی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا مجھے خود اپنے بدن میں کسی کا ڈر کیا تھا کوئی تمیز نہ کی خون کی شرارت نے اک ابر او باد کا طوفاں تھا دشت و در کیا تھا زمیں پہ کچھ تو ملا چند الجھنیں ہی سہی کوئی نہ جان سکا آسمان پر کیا تھا مرے زوال کا ہر رنگ تجھ میں شامل ہے تو آج تک مری حالت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 844 سے 6203