قومی زبان

گرو نانک

گرو نانک جسے کہتے ہیں وہ اک مرد کامل تھا کہ اس کے پاس سینے میں تقدس آفریں دل تھا وہ گونجا نغمۂ ناہید بن کر آسمانوں میں لیا جاتا ہے نام اس کا مقدس داستانوں میں حقیقت اپنی منوائی حقیقت آشنا ہو کر جو اٹھا ابتدا ہو کر تو بیٹھا انتہا ہو کر سبق انسانیت کا دینے آیا ابن آدم کو ترقی کی ...

مزید پڑھیے

مزدور کی زندگی

دوپہر کا وقت گرما کی ہوائیں تیز تر مہر کی تابش سے پگھلے جا رہے ہیں دشت و در گرم ہے نہروں کا پانی سرد ہے نبض بہار خشک پتے جیب و دامن کر رہے ہیں تارتار جل رہا ہے سبزۂ بے رنگ فرش خاک پر بھن رہا ہے دھوپ کی تیزی سے گیتی کا جگر تند جھونکے آ رہے ہیں دامن کہسار سے سر زمین رنگ و بو پر آگ ...

مزید پڑھیے

مزدور کی موت

وقت کا مارا ہوا انساں رعونت کا شکار جس کی محنت کا نتیجہ عظمت سرمایہ دار اصل میں ہندوستاں کا بادشہ لیکن غلام زندگی کی دوسری منزل میں ہے گرم خرام پھر رہا ہے چلچلاتی دھوپ میں دیوانہ وار بال بچوں کا تصور کر رہا ہے بے قرار خون پانی ایک کر کے دام جب ملتے نہیں ہاتھ پھیلا کر بھی کیا دے ...

مزید پڑھیے

ترانۂ اردو

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری فطرت کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری آبا کی داستاں ہے اردو زباں ہماری مظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری ہندو بھی بولتے ہیں مسلم بھی بولتے ہیں دو جسم ایک جاں ہے اردو زباں ہماری تعمیر کی ہے اس کی خود کو مٹا مٹا کر اسلاف کا نشاں ہے اردو زباں ...

مزید پڑھیے

ٹیگور

سحر کے وقت جب ٹھنڈی ہوائیں سرسراتی ہیں چمن کا رنگ کھل جاتا ہے کلیاں مسکراتی ہیں پرندے تولتے ہیں پر نکل کر آشیانے سے فضائیں گونج اٹھتی ہیں عنادل کے ترانے سے تخیل آدمی کا جب نئی تشکیل پاتا ہے نظام بزم عالم میں تغیر ہوتا جاتا ہے ہزاروں مرد میداں خون پانی ایک کرتے ہیں رہ مشکل طلب ...

مزید پڑھیے

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے مری زندگی کا حاصل مرا انتظار تو ہے ترا کس سے واسطہ ہے تجھے کس کی ہے تمنا جو ہلاک جلوۂ غم دل بے قرار تو ہے مری مشکلوں میں اکثر مرے کام آنے والے مرا مونس و نگہباں مرا غم گسار تو ہے تجھے میری جستجو ہے مجھے آرزو ہے تیری ترا اعتبار میں ہوں مرا ...

مزید پڑھیے

پلٹ کے دور زماں صبح و شام پیدا کر

پلٹ کے دور زماں صبح و شام پیدا کر نئے طریق سے دنیا میں نام پیدا کر ترا مذاق اڑاتے ہیں دیکھنے والے اگر نظام غلط ہو نظام پیدا کر نظر کو طور بنا دل کو مرکز اسرار غم الست سے عیش دوام پیدا کر سکون موت کی تمہید ہے زمانے میں لہو میں حرکت و سوز تمام پیدا کر نسیم صبح کی مانند مسکراتا ...

مزید پڑھیے

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے اگر نہیں ہے تمہارا بیان کس کا ہے بساط ارض بسیط آسمان کس کا ہے ہمارے دل میں نہاں یہ جہان کس کا ہے یہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہیں کیوں در و دیوار مکین کون تھا اس میں مکان کس کا ہے جہاں تمہارے نشان قدم نہیں ملتے مرا نہیں ہے اگر وہ مکان کس کا ہے کلی کلی لب ...

مزید پڑھیے

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں اور پھر آنکھ بھی تر ہو یہ ضروری تو نہیں بے خودی باعث کلفت بھی تو ہو سکتی ہے ہر نفس کیف اثر ہو یہ ضروری تو نہیں خود کو پامال ہی کرنا ہے تو اے جوش جنوں وہ تری راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں نشۂ خواب چرا لائے تری آنکھوں سے نالۂ شب میں اثر ہو یہ ضروری تو ...

مزید پڑھیے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے کہاں سے لاؤں سراج منیر گھر کے لئے طلب کی راہ سلامت مقام شوق بہت تکلفات ضروری نہیں سفر کے لئے جمال یار سزاوار جہت خاص نہیں عجیب مرحلہ در پیش ہے نظر کے لئے غریب شہر تمنا اسیر دام فراق تڑپ رہا ہے سر جادہ ہم سفر کے لئے بصیرت لب و لہجہ نہ زندگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 806 سے 6203