قومی زبان

رات تاروں سے جب سنورتی ہے

رات تاروں سے جب سنورتی ہے اک نئی زندگی ابھرتی ہے موج غم سے نہ ہو کوئی مایوس زندگی ڈوب کر ابھرتی ہے آج دل میں پھر آرزوئے دید وقت کا انتظار کرتی ہے دل جلے یا دیا جلے شوکتؔ رات افسانہ کہہ گزرتی ہے

مزید پڑھیے

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ...

مزید پڑھیے

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو ...

مزید پڑھیے

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا میں خود بھی اپنے غم کا شناسا نہیں ملا اپنی طلب کے اپنی غرض کے ملے ہیں لوگ میری طلب کو دیکھنے والا نہیں ملا پھرتا رہا ہوں کوئے وفا میں تمام عمر لیکن کہیں بھی کوئی شناسا نہیں ملا میرے عیوب پر رہی ہر شخص کی نگاہ کوئی ہنر کو دیکھنے والا نہیں ...

مزید پڑھیے

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے شکستہ دل کے سہاروں کی یاد آتی ہے کبھی نگاہ محبت نے جس کو چھیڑا تھا اب ان رباب کے تاروں کی یاد آتی ہے نگاہ پڑتی ہے جب بھی کسی شگوفے پر تمہارے ساتھ بہاروں کی یاد آتی ہے جو مل کے چھوٹ گئے زندگی کی راہوں میں اب ان حسین سہاروں کی یاد آتی ہے مچلتی آرزؤں ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے گیت اک ایسا سناؤ کہ ہنسی آ جائے دم گھٹا جاتا ہے اس رات کی تاریکی میں کوئی بستی ہی جلاؤ کہ ہنسی آ جائے تم تو بے لوث ہو مخلص ہو کرم فرما ہو اتنے نزدیک نہ آؤ کہ ہنسی آ جائے کام کرنا ہے تو میدان میں آؤ شوکتؔ اس طرح بیٹھ نہ جاؤ کہ ہنسی آ جائے

مزید پڑھیے

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم ایک دن آئے گا جب ان کو بھی یاد آئیں گے ہم چاندنی بن کر کبھی دامن پہ لہرائیں گے ہم بن کے آنسو گاہ پلکوں پر ٹھہر جائیں گے ہم شام کو جام مسرت بھر کے چھلکائیں گے ہم صبح کو دور چراغ بزم بن جائیں گے ہم پھر کہاں پائیں گے ہم کو نو عروسان چمن جب فضائے ...

مزید پڑھیے

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی شہر میں رونق ہوئی تو اور ویرانی بڑھی عقل کی منطق سے بڑھ کر ہے جنوں نکتہ نواز ہیں عیاں اسرار ہستی اب کہ حیرانی بڑھی جس قدر بڑھتی گئی ہے عمر کم ہوتی گئی جس قدر گھٹتی گئی ہے اور نادانی بڑھی قابل ذکر اک یہی قصہ ہے آزادی کے بعد اور پابندی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی میری جو ہے اوقات کبھی ختم نہ ہوگی مل جائیں کسی موڑ پہ اک روز جو ہم تم پھر پیار کی سوغات کبھی ختم نہ ہوگی آ جاؤ کے ہم راہ تری دیکھ رہے ہیں آؤ گے تو پھر رات کبھی ختم نہ ہوگی وعدہ یہ کرو مجھ سے ملاقات یہ تیری تا عمر ملاقات کبھی ختم نہ ہوگی کہتے ...

مزید پڑھیے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے دیکھتے دیکھتے ہم سنور جائیں گے زندگی یہ مری آپ کے نام ہے بے وفا ہوں گے تو کدھر جائیں گے زندگی کے لئے زندگی چاہیے آپ ملتے رہے تو نکھر جائیں گے دوریاں اتنی ہم کو گوارا نہیں کیا کریں گے یہاں ہم تو مر جائیں گے شازیہؔ آدمیت یہی ہے اگر دیکھنا اک دن ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 782 سے 6203