قومی زبان

سچ ہے ان کو مجھ سے کیا اور میرے افسانے سے کیا

سچ ہے ان کو مجھ سے کیا اور میرے افسانے سے کیا کر دیا دیوانہ تو اب کام دیوانے سے کیا عشق کا عالم جدا ہے حسن کی دنیا جدا مجھ کو آبادی سے کیا اور تم کو ویرانے سے کیا میری حیرت اس طرف ہے تیری غفلت اس طرف دیکھیے دیوانہ اب کہتا ہے دیوانے سے کیا شمع کی لو ہے تو اس کا رخ بھی ہے سوئے ...

مزید پڑھیے

تجویز

شرافتوں کے سر و پا اتار کر پھینکیں چلیں سڑک پہ ذرا گھومیں فقرے چست کریں کسی کو بے وجہ چھیڑیں ہنسی اڑائیں بلائیں بلا کے پیار کریں ستائیں راستے چلتے کسی مسافر کو غلط پتا دیں سڑک کے بیچ چلیں غتہ کو پا کے اترائیں لگائیں ٹھوکریں فٹ بال مان کر اس کو لگے کسی کے جو جا وہ تو ادھر ادھر ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

فضاؤں میں پھیلی خزاں کی خموشی سمٹنے لگی ہے کھلی ادھ کھلی سی کئی کھڑکیوں سے

مزید پڑھیے

تذبذب

سچ بتاؤ جو کتابوں میں لکھا ہے کیا وہ سب تم نے کہا ہے جب اذیت جسم سے رسنے لگے گی جب دعا کو اٹھنے والے ہاتھ شل ہونے لگیں گے اور شل ہوتے ہوئے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا جائے گا شانوں سے میرے جب ثنا کی صوت پھونک ڈالے گی لبوں کو آرزو میں آبلوں سی آنکھیں نیزے پھوڑ دیں گے اور گلا بنجر زمیں سا کچھ ...

مزید پڑھیے

سبھی ویسے کا ویسا ہے

سبھی کچھ ویسے کا ویسا ہے کہیں کچھ بھی نہیں بدلا دور سے آواز دیتیں محرابیں دھوجائیں نکیلے اور گول گنبد غٹرغوں کرتے کبوتر ٹوٹتے بکھرتے قلعے کی منہدم برجیوں پہ اگی جلی گھاس برساتی نالے کی ناف سے نکلتی پگڈنڈی پار کوٹھار گاڈولیا لوہار گھنا چھتنار پیڑ پیپل کا اونگھتی السائی ...

مزید پڑھیے

تجسس

ایک بار صرف ایک بار آتی ہو دبے پاؤں اور دبے پاؤں ہی گزر جاتی ہو تمہاری آمد اور ساعتوں کا قیام کتنا مختصر ہے لیکن کتنا فخر آور مگر جہاں تم بار بار پلٹ پلٹ کر جاتی ہو وہاں بھی تمہارے یہی معنی ہیں بہار

مزید پڑھیے

پرانے مندر میں شام

اب تو وہاں نشان ہے جہاں کبھی دیوتا کہ مورتی رہی ہوگی شکستہ شہتیر میں پھنسا بچا زنجیر کا حلقہ جس میں شاید کبھی گھنٹی لٹکتی ہو صحن میں راکھ ہے کسی نے الاؤ جلایا ہوگا روشنی اور گرمی کے لئے درکتی دہلیز پر ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ پرانے سجدے چنتی ہے پیلے پائے دانوں پر نقوش پا ابھرتے ہیں

مزید پڑھیے

موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے

موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے گل ہو گئے چراغ گھروندے بکھر گئے پیڑوں کو چھوڑ کر جو اڑے ان کا ذکر کیا پالے ہوئے بھی غیر کی چھت پر اتر گئے یادوں کی رت کے آتے ہی سب ہو گئے ہرے ہم تو سمجھ رہے تھے سبھی زخم بھر گئے ہم جا رہے ہیں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے دیوار و در کی فکر میں کچھ لوگ گھر ...

مزید پڑھیے

پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے

پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے ظالم ہوائے شہر ہے عزت بھی لے نہ جائے وحشت تو سنگ و خشت کی ترتیب لے گئی اب فکر یہ ہے دشت کی وسعت بھی لے نہ جائے پیچھے پڑا ہے سب کے جو پرچھائیوں کا پاپ ہم سے عداوتوں کی وہ عادت بھی لے نہ جائے آنگن اجڑ گیا ہے تو غم اس کا تا بہ کے محتاط رہ کہ ...

مزید پڑھیے

ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں

ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں اپنے ماحول کے مجلے ہیں کون جانے کہاں دفینے ہیں اپنے تو پاس صرف نقشے ہیں صورتیں چھین لے گیا کوئی اس برس آئینے اکیلے ہیں خواب خوشبو، خیال، اور خدشے ایک دیوار سو دریچے ہیں دوستی عشق اور وفاداری سخت جاں میں بھی نرم گوشے ہیں پڑھ سکو تو کبھی پڑھو ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 766 سے 6203