قومی زبان

موسم غم گزر نہ جائے کہیں

موسم غم گزر نہ جائے کہیں شب میں سورج نکل نہ آئے کہیں اپنی تنہائیاں چھپانے کو بت بنائے صنم گرائے کہیں وہ سراپا ہے خواب خوشبو کا جھونکا جھونکا بکھر نہ جائے کہیں ڈر یہ کیسا ہوا سفر میں مجھے راستہ ختم ہو نہ جائے کہیں کیا بتاؤں وہ کیوں پریشاں ہے مجھ کو ڈھونڈے کہیں چھپائے کہیں سب ...

مزید پڑھیے

رنگوں کا تقدس

مجھے سب خبر ہے اسے بھی پتا ہے کہ اب وسعتوں میں نہیں اور کچھ بھی فقط وسعتیں ہیں ہمیں رنگوں کا اندرجالی تقدس اٹھائے اٹھائے سفر کی صعوبت یوں ہی جھیلنی ہے خبر ہے کہ خوشبو کا آکار کچھ بھی نہیں ہے پتہ ہے کہ لمس اک قبا ڈھونڈھتا ہے نفس نیزوں ہی پر ہواؤں کے سر کو اٹھائے اٹھائے یوں ہی ...

مزید پڑھیے

سایوں کے سائے میں

منتظر متشوش و منتشر کتنے مکانوں کی قطاریں اس کھنڈر کی اور جو شاید کبھی معبد کدہ ہیں ان کا جن کے گم ہونے سے ہیں گم سم سبھی گلیاں اور گزر گاہوں پہ منڈلاتا ہوا آسیبی سایہ موڑ پر رکتی سسکتی اجنبی سایوں سے سہمی کوئی پرچھائیں پلٹتی بھاگتے قدموں کی آہٹ ڈوب جاتی آب جو کے ٹھیک بیچوں بیچ

مزید پڑھیے

بیاضیں کھو گئی ہیں

بیاضیں جن میں ان دیکھے پرندوں کے پتے لکھے بیاضیں! جن میں ہم نے پھولوں کی سرگوشیاں لکھیں پہاڑوں کے رموز اور آبشاروں کی زباں لکھی بیاضیں! جن کے سینے میں سمندر اور سورج کی عداوت کے تھے افسانے پرندے اور پیڑوں کے رقم تھے باہمی رشتے ہمارے ارتقا کی الجھنیں جن سے منور تھیں بیاضیں کھو ...

مزید پڑھیے

چھین کر وہ لذت صوت و صدا لے جائے گا

چھین کر وہ لذت صوت و صدا لے جائے گا ہاتھ شل کر جائے گا حرف دعا لے جائے گا بیچ کا بڑھتا ہوا ہر فاصلہ لے جائے گا ایک طوفاں آئے گا سب کچھ بہا لے جائے گا دیکھنا بڑھتا ہوا یہ خواہشوں کا سلسلہ موج خوں دکھلائے گا رنگ حنا لے جائے گا بے مقدر چھوڑ جائے گا سبھی پیشانیاں روشنی آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

موج ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی

موج ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی اڑتے ہوئے پرندوں کے پر بھی کتر گئی آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی کچھ لوگ دھوپ پیتے ہیں ساحل پہ لیٹ کر طوفان تک اگر کبھی اس کی خبر گئی نکلے کبھی نہ گھر سے مگر اس کے باوجود اپنی تمام عمر سفر میں گزر ...

مزید پڑھیے

وہ کچھ اس طرح چاہتا ہے مجھے

وہ کچھ اس طرح چاہتا ہے مجھے اپنے جیسا بنا دیا ہے مجھے اس طرح اس نے خط لکھا ہے مجھے جیسے دل سے بھلا دیا ہے مجھے گر نہیں چاہتا تو پچھلے پہر کیوں دعاؤں میں مانگتا ہے مجھے جس پہ پھلتے نہیں دعا کے پیڑ اس زمیں سے پکارتا ہے مجھے تخلیئے میں نہ جانے کتنی بار لکھتے لکھتے ہٹا چکا ہے ...

مزید پڑھیے

پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو

پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو خود سے باہر بھی تو کبھی دیکھو پھر کھلی کیا کوئی کلی دیکھو شور ہے کیوں گلی گلی دیکھو یاد اور یاد کو بھلانے میں عمر کی فصل کٹ گئی دیکھو مار کوئی شکار پر نکلا دشت میں روشنی ہوئی دیکھو رات کی راکھ منہ پہ مل مل کر صبح کتنی سنور گئی دیکھو صبح کی فکر بعد میں ...

مزید پڑھیے

کئی شکلوں میں خود کو سوچتا ہے

کئی شکلوں میں خود کو سوچتا ہے سمندر پیکروں کا سلسلہ ہے بدلتی رت کا نوحہ سن رہا ہے ندی سوئی ہے جنگل جاگتا ہے بکھرنے والا خود منظر بہ منظر مجھے کیوں ذرہ ذرہ جوڑتا ہے سنو تو پھر ہوا کا تیز جھونکا کسے آواز دیتا جا رہا ہے ہوا کا ہاتھ تھامے اڑ رہا ہوں ہوا فاصل ہوا ہی فاصلا ہے حدود ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا آنسو مرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر ورنہ کہیں گے لوگ دعا سے اثر گیا نکلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 767 سے 6203