قومی زبان

زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں

زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں آخر یہ اور کیا ہے اگر بے بسی نہیں وہ دل دیا نصیب نے جس میں خوشی نہیں اک چیز تو ملی ہے مگر کام کی نہیں ہاں اے شب فراق تجھے جانتا ہوں میں تو صبح تک رہی تو مری زندگی نہیں ہرگز فریب رنگ مسرت نہ کھائیے یہ غم کا نام ہے یہ حقیقی خوشی نہیں دنیا کی ...

مزید پڑھیے

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا بتوں کے سامنے جا کر خدا کا واسطہ دینا نگاہ شوق کا بڑھ کر نقاب رخ اٹھا دینا ترے جلوے کا برہم ہو کے اک بجلی گرا دینا خدائی ہی خدا کی خاک سے انساں بنا دینا تمہارا کھیل ہے انساں کو مٹی میں ملا دینا میں اپنی داستان درد دل رو رو کے کہتا ہوں جہاں ...

مزید پڑھیے

کون سا جادو ہے یا رب اس نگاہ ناز میں

کون سا جادو ہے یا رب اس نگاہ ناز میں دیکھتا ہوں جب تو پاتا ہوں نئے انداز میں موت تھی میرے لئے تیری نگاہ ناز میں زندگی کا راز تھا تیرے لب اعجاز میں صاف تصویریں نظر آتی ہیں حسن و عشق کی تجھ کو میرے عجز میں اور مجھ کو تیرے ناز میں اپنے زنداں کو اڑا کر باغ میں لے جائیں ہم لیکن اب ...

مزید پڑھیے

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا جہاں جہاں تجھے ڈھونڈھا وہاں وہاں دیکھا وہی ہے دشت جنوں اور وہی ہے تنہائی ترے فریب کو اے گرد کارواں دیکھا ہے برق کو بھی کوئی لاگ نا مرادوں سے گری تڑپ کے جہاں اس نے آشیاں دیکھا جنوں نے حافظہ برباد کر دیا اپنا کچھ اب تو یاد نہیں ہے کسے کہاں ...

مزید پڑھیے

یہاں جزا و سزا کا کچھ اعتبار نہیں

یہاں جزا و سزا کا کچھ اعتبار نہیں فریب حد نظر ہے عروج دار نہیں نگاہ لطف میں غم کا مرے شمار نہیں یہ اعتبار بانداز اعتبار نہیں سکون موت ہی انجام اضطراب فراق جسے قرار نہ آئے وہ بیقرار نہیں خبر نہیں کہ کھلے کتنے پھول گلشن میں کہ آج جیب و گریباں میں ایک تار نہیں خدا کے نام پہ دل کو ...

مزید پڑھیے

سمت کا صحرا

کیسا لگتا ہے اب جب ہو گئے ہیں ایک جیسے چاروں اور چھور ساربانوں کے کہیں بیٹھتے اٹھتے مڑتے ٹوٹتے سر ہیں نہ اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی دوریوں کے دریاؤں میں دھیرے دھیرے ڈوبتی گونجیں نہ کہیں خچروں پہ بیٹھیں خواب بنتیں خانہ بدوش دوشیزائیں جن کے برہے سننے ٹھہر جاتا تھا ساون تمہارے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں جگہ جگہ سے اسی لئے سب مسک رہی ہیں اتاریں ان کو پرانے کپڑوں کے گندے گھر میں بند کر دیں کبھی کوئی سب پھٹے پرانے ہمارے کپڑے خرید لے گا اور ان کے بدلے چمکتا سا کچھ تھمائے شاید

مزید پڑھیے

رسوا بقدر ذوق تمنا نہیں ہوں میں

رسوا بقدر ذوق تمنا نہیں ہوں میں اپنے عروج پر ابھی پہونچا نہیں ہوں میں نیرنگ قید ہستیٔ فانی نہ پوچھئے مرتا ہوں روز اور کبھی مرتا نہیں ہوں میں تاثیر ہی بیاں میں نہ ہو جب تو کیا کروں کیا اپنا حال ان کو سناتا نہیں ہوں میں جو مجھ کو دیکھتے ہیں تجھے دیکھتے ہیں وہ شاید تری نگاہ کا ...

مزید پڑھیے

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو یہ ہستی و عدم کیوں ہو فنا کیوں ہو بقا کیوں ہو تمہیں تم ہو تو پھر دل میں خیال ماسوا کیوں ہو وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو نتیجہ کچھ نہیں ہے شمع ...

مزید پڑھیے

حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا

حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا مرا دل تیرا جلوہ تھا ترا جلوہ مرا دل تھا ہوا نظارہ لیکن یوں کہ نظارہ بھی مشکل تھا جہاں تک کام کرتی تھیں نگاہیں طور حائل تھا رہا جان تمنا بن کے جب تک جان مشکل تھا نہ تھی مشکل تو اس کے بعد پھر کچھ بھی نہ تھا دل تھا نظر بہکی حجاب اٹھا ہوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 765 سے 6203