قومی زبان

بے غرض محسن

ساون کا مہینہ تھا، ریوتی رانی نے پاؤں میں مہندی رچائی، مانگ چوٹی سنواری۔ اور تب اپنی بوڑھی ساس سے جاکر بولی، ’’امّاں جی آج میں میلہ دیکھنے جاؤں گی۔‘‘ ریوتی پنڈت چنتا من کی بیوی تھی۔ پنڈت جی نے سرسوتی کی پوجا میں زیادہ نفع نہ دیکھ کر لکشمی دیوی کی مجاوری کرنی شروع کی تھی۔ لین ...

مزید پڑھیے

پرائشچت

دفتر میں ذرا دیر سے آنا افسروں کی شان ہے۔ جتنا بڑا افسر ہوگا اتنی ہی دیر سے آئے اور اسی قدر جلد چلا جائے گا۔چپڑاسی کی حاضری چوبیس گھنٹوں کی۔ وہ چھٹی پر بھی نہیں جاسکتا۔ اس کا معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ خیر جب بریلی ڈسٹرکٹ بورڈ کے ہیڈ کلرک بابو مداری لال گیارہ بجے دفتر آئے۔ تو دفتر ...

مزید پڑھیے

راہ خدمت

تارا نے بارہ سال تک ڈرگا تپسیا کی۔ نہ پلنگ پر سوئی نہ سرمیں تیل ڈالا، نہ آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ زمین پر سوتی تھی، گیروے کپڑے پہنتے تھی اور روکھی روٹیاں کھاتی تھی۔ اس کا چہرہ مرجھائی ہوئی کلی تھی، آنکھیں بجھا ہوا چراغ، اور دل ایک بیہڑ میدان، سبزہ اور نزہت سے خالی، اسے صرف ایک ...

مزید پڑھیے

وہ ایک بات

آج سال کی آخری تاریخ ہے۔ پُرانا سال دم توڑ رہا ہے اور نیا سال جنم لے رہا ہے۔ نئے سال کی آمد کے اہتمام میں رائل ہوٹل نئی نویلی دُلہن کی طرح سجایا گیا ہے۔ ہال میں مدھم سی رنگین روشنی پھیلی ہوئی ہے اور ماحول بے حد رُومان انگیز ہے۔ آرکِسٹرا کی ہلکی سی دُھن فضا میں امرت رس گھول رہی ہے۔ ...

مزید پڑھیے

اور زندگی مسکرانے لگی

اور اس کی نظریں مس نگار پر جم کر رہ گئیں۔ ’’ساجد! ارے اُو ساجد!! ذرا پروین سے کہنا سارے مہمان آگئے۔ لیکن ڈاکٹر کا پتہ نہیں، فون پر دریافت کرے آخر کیا بات ہے ؟‘‘ پرنسپل ریاض نے عینک صاف کرتے ہوئے چپراسی سے کہا اور پھر نئے مہمانوں کے استقبال کو آگے بڑھ گئے۔ آج گورنمنٹ کالج کا ...

مزید پڑھیے

تشنگی کا سفر

آج کی شام کتنی خوش گوار ہے!! سارے دن کا تھکا ماندہ آفتاب مغرب کی آغوش میں جھک گیا ہے۔ اُس کی سنہری کرنین روئے کائنات پر رقصاں ہیں اور سبزہ وگل کو چوم رہی ہیں۔ فضا کیف برسارہی ہے، ہواؤں کے نرم نرم خوش گوار جھونکے فرحت بخش رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی کے خوبصورت لان میں کھلے ہوئے رنگ رنگ ...

مزید پڑھیے

یادوں کے دریچے

آج ساری کائنات چاندنی میں نہا رہی ہے نہیں بیوہ کی طرح سفید ساڑی میں ملبوس ہے۔ دُور آسمان پر چاند سِسک رہا ہے، تارے سُلگ رہے ہیں اور چاندنی دریچے سے میرے کمرے میں جھانک رہی ہے چاندنی جس کے ہونٹوں پر بیکراں اُداسی ہے، جس کی آنکھوں میں غم کے سایے لہرارہے ہیں۔ میں اپنے پلنگ پر لیٹی ...

مزید پڑھیے

خوشبو تیری وفا کی

آج موسم کتنا خوش گوار ہے! ابھی ابھی زوردار بارش ہوکر تھم گئی ہے۔ لیکن نیلگوں آسمان کی بے کراں وسعت میں ابھی کالی کالی گھٹائیں چھارہی ہیں۔ سبزہ وگل پر ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے، فضا کیف وسرور میں ڈوبی ہوئی ہے اور ہواؤں کے نرم نرم خُنک جھونکے فرحت بخش رہے ہیں۔ پائیں باغ کی کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

پلکوں میں آنسو

اور آج میرا سارا سکون درہم برہم ہوگیا ہے!! درد کے تمام فاصلے سمٹ آئے ہیں۔ میرے سینے میں عجیب سی کسک چُٹکیاں لے رہی ہے۔ شاید اُس کے دل کا درد زہر بن کر میری روح کی گہرائیوں میں اُتر رہا ہے اور میں امجد کے غم کی آگ میں سُلگنے لگی ہوں۔ امجد شروع ہی سے سنجیدہ رہا ہے۔ لیکن گذشتہ چند ...

مزید پڑھیے

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

اور تصویر اس کے ہاتھوں سے گرگئی! خوبصورت فریم ٹوٹ گیا۔ شکستہ شیشے کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے شیشے کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس کے دل کی گہرائیوں میں سوئیوں کی طرح چبھ رہے ہوں، ’’میں بیٹھ سکتا ہوں‘‘ اسلم مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’شوق سے تشریف رکھیے اس نے بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5988 سے 6203