آوارہ سایے
دن بھر کا تھکا ماندہ بوڑھا آفتاب مغرب کی آغوش میں چھپ گیا ہے۔ اس کی سنہری دھوپ شام کے قرمزی رنگ میں مدغم ہوگئی ہے۔ اور پھر سرمئی شام کے سایے گھنے ہوگئے ہیں اور آسمان پر تارے جگمگانے لگے ہیں۔ نیم تاریک گلی میں چند آوارہ سایے منڈلارہے ہیں۔ وہ دہلیز کے قریب آکر کھڑی ہوگئی ہے۔ کمرے ...