قومی زبان

پُل

وہ میرے ساتھ ہی گھرسے چلی تھی، ہوٹل منزل!وجئے کا فون آیاتھا، یاراس موٹے بھدے سیٹھ کوپٹا لینا ، بزنس میں فائدہ ہی فائدہ ہوگا، میں نے کارلی تھی کہ وہ سیٹ پرآبیٹھی اوربولی ’’یادکرووہ بڑ سی حویلی اوراس کی روایت تم اس کی وارث ہو‘‘۔ ’’تو۔۔۔‘‘ ’’اپنی اس روایت کو آگے ...

مزید پڑھیے

آرگن بازار

دل شام کا سورج تھا لمحہ لمحہ خون ہوتا ہوا افق کی گود میں سوتا ہوا اور چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی۔ بے محابا بکھرتی ہوئی تاریکی ... اف! یہ تاریکی تو میرا مقدر ہے۔ ثمین نے بے اختیار سوچا۔ تاریکی جو اس کے اندر گھلتی ہوئی تاریکی جو گلی میں بکھرتی ہوئی۔ یہاں سے وہاں تک۔ عجب سلسلہ ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ایمل کا المیہ

ایمل وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھے محبت کی دھڑکنیں سن رہا تھا۔ کبھی دھڑکنوں کی رفتار اس قدر تیز ہو جاتی جیسے دباؤ سے امید کی رگیں پھٹ جائیں گی او پھر اس کے پاس ٰیادوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ تو کبھی اتنی مدھم کہ لگتا وفا کے جسم سے جان نکل ہی جائے گی۔ کبھی دھیرے دھیرے معتدل ہو جاتیں۔ ایمل ...

مزید پڑھیے

شہرہائے ذغالی

سِن پندرہ سال پر سات سال اوپر گزر گئے ابھی تک میری داڑھی نہیں آئی ۔ البتہ بہت سی داڑھیاں رسی کی طرح بَٹی ہوئی میرے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں ۔ نجانے کب قیامت ان بیڑیوں کو کھولنے آئے گی ؟ چوک پہ کھڑا ٹریفک پولیس میری طرح پچھلے سات سالوں سے یہیں ہے ۔ اس سے پہلے کوئی اور تھا جو اس کی طرح ...

مزید پڑھیے

لوک عدالت

(۱) ’’اُس عالیشان کو ٹھی میں رہنے والے عالیشان خاندان کے اتنے وارث مارے گئے، لیکن کسی نے چوں تک نہیں کی۔ عورتوں کے دل ہیں یا پتھر۔‘‘ چائے کی تھڑی لگانے والے کالو رام نے ڈونگر گولاکو صبح صبح ایک گلاس چائے دیتے ہوئے رازدارانہ میں سرگوشی کی۔ ’’ہاں بھیّا!گھر کے سارے مرد مارے ...

مزید پڑھیے

شجر ممنو عہ کے تین پتے

’’اور کیایہ ابنِ آدم کے شجرِ ممنو عہ سے کھا ئے یا پھر کھلا ئے اس دا نۂ گندم کا اثرِ خما ر ہے کہ اور یہ خما ر روح کو چڑھا یاپھر بدن کو ‘‘ ابھی میں نے چند لا ئنیں ہی گھسیٹیں تھیں کہ ملا زمہ نے اِ طلاع دی :’’ با جی! پڑوس سے رفعت با جی آئی ہیں ، بلا رہی ہیں ۔ کہہ رہی ہیں کہ،’’با جی سے ...

مزید پڑھیے

مولوی صا حب کی ڈا ک

مو لو ی صا حب نے اک بڑا سا بوری نما تھیلا جو کہ ڈا ک سے آئے خطوط سے بھرا تھا ۔ تھا متے ہوئے بد دلی سے میگز ین ایڈ یٹر کی ہدا یت کو سنا اور اپنے آفس میں آکر کر سی پر بیٹھ گئے اور تھیلا میز پر دھر دیا ۔ ان کا غصہ بے زا ری ان کے چہرے سے مُتر شخ تھا ۔ وہ بڑبڑائے ۔ ’’لا حول ولا کیا ہوگیا ہے ...

مزید پڑھیے

مردہ آنکھوں کا شہر

یہ اک مردہ آنکھ تھی جو کسی ان دیکھے چھرے کی زد میں ٓائی تھی ،اندھا دھند فائرنگ مں کس چھرے پہ کسں کا نا م لکھا تھا ،پتہ بھی تو نہ چلتا تھا ۔اورپھر یہ ٓانکھ تو فقط آٹھ برس کی تھی !آٹھ برس کی معصوم حیرت زدہ آنکھ! مردہ ہوجانے کے باوجوداس آنکھ میں حیرت کھدی تھی کہ آخر مجھے کس جرم کی سزا ...

مزید پڑھیے

شاخ جبر کا انوکھا پھل

اور پھر بہت جنگ ہوئی ،بہت خون خرابہ ہوا، یہ کوئی آسان ہدف نہ تھا، یہ جنگ بھی آج ۔کی جنگ نہ تھی یہ تو نظریات کا بھیانک ٹکراو تھا ،اس کی تاریخ بنی آدجتنی ہی قدیم تھی یہ مقابلہ روشنی اور اندھیرے کے درمیان تھا! یہ مقابلہ دو قوتوں کے درمیاں تھا۔۔ اک قوت بنی آدم کو اس کرے کا نفس مضمون ...

مزید پڑھیے

البیلا روپ

اس نا خوشگوار خبر نے ذہن و دل میں اک ہلچل سی مچا دی ہے اور یا دوں کی اک لڑی جیسے کھل جا ئے اور دا نہ دا نہ گرتی یا دیں ہا تھوں کے پیا لے میں اکٹھی ہو تی جا ئیں ۔ یا د پڑتا ہے کہ بہت چھوٹی سی تھی جب کسی بھی شا دی پہ جا نے کاوا حد مقصد و شو ق یہی ہو تا تھا کہ مجھے دلہن کے پاس بٹھا دیا جا ئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5938 سے 6203