قومی زبان

چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے

چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے جوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے تمہیں ہوگے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے جئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی سنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے ہمارے ڈوبنے کے بعد ابھریں گے ...

مزید پڑھیے

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں (ردیف .. ا)

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں پوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہوا عشق ہے بے گذار کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا یہ تو بجا کہ اب وہ کیف جام شراب میں نہیں ساقی مے کے غمزۂ ہوش ربا کو کیا ہوا اب نہیں جنت مشام کوچہ یار کی شمیم نکہت زلف کیا ہوئی ...

مزید پڑھیے

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں تڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں مدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے نکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضراب محبت کی کہ ...

مزید پڑھیے

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے کہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا تو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے میں عدم کے لالہ زاروں میں نواگر ازل ...

مزید پڑھیے

بے غلمان کی جنت

گرمی کے موسم میں کوئی نو عمر ادیب عبدالمجید سالک سے ملنے آئے ۔ سالک صاحب کے کمرے میں بجلی کا پنکھا چل رہا تھا جس کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی اور ہر چیز قرینے سے نفاست سے رکھی ہوئی تھی ۔ وہ ادیب کمرے کی شاداب فضا سے متاثر ہوکر کہنے لگا۔ ’’سالک صاحب !آپ نے تو اپنے کمرے کو ...

مزید پڑھیے

مرغ وماہی کے پیٹ میں مشاعرہ

سالک صاحب ہندو پاک مشاعرے میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہوئے تھے ۔مجمع احباب میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب ذوق نے اپنے یہاں کھانے پر تشریف لانے کی درخواست کی ۔ سالکؔ صاحب نے عذر پیش کیا تو خوشتر گرامی نے کہا کہ’’ مولانا ان کی دل شکنی نہ کیجئے،دعوت قبول کرلیجئے ۔‘‘ سالک ؔ صاحب نے ...

مزید پڑھیے

جانور اور جاندار کا فرق

ایک زمانے میں سالک کی مولانا تاجور سے شکر رنجی ہوگئی ۔ ایک محفل میں ادیب شاعر جمع تھے ،کسی نے سالکؔ سے پوچھا’’تاجور اور تاجدار میں کیا فرق ہے ؟‘‘ سالکؔ نے جواب دیا۔’’وہی جو جانور اور جاندار میں ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے

بے ایمان خانہ؟

سالکؔ صاحب روزمانہ’’زمیندار ‘‘ میں فکاہیہ کالم ’’افکار و حوادث ‘‘ لکھا کرتے تھے ۔ ایک زمانے میں وہ ایک بار دہلی آئے تو خواجہ حسن نظامی سے ملنے کے لیے بستی نظام الدین گے ۔ خواجہ صاحب بڑے تپاک سے پیش آئے اور درگاہ دکھانے کے لیے ان کو ساتھ لے کے چلے ۔ ایک معمولی سے مکان کی طرف ...

مزید پڑھیے

پان فروش ایڈیٹر

مولانا عبدالمجید سالک ؔ روزنامہ’’زمیندار‘‘ کے ایڈیٹر تھے ۔ ترک موالات کی تحریک میں برطانیہ کے خلاف مضامین لکھنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور ایک سال قید بامشقت کی سزاپائی ۔ اس کے بعد’’زمیندار ‘‘ کے بہت سے ایڈیٹر گرفتار ہوئے ۔ ہوم ممبر سرجان مینار ڈجیل کے معائنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

وائسرائے اور بائیں ہاتھ کا کھیل

لارڈارون ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے ۔ ان کا دایاں ہاتھ جنگ میں کٹ چکا تھا ۔ مختلف اخبار نے اس تقرری پر مخالفانہ انداز میں لکھا۔ لیکن مولانا سالکؔ نے ’افکار و حوادث ‘ میں جس طریقے سے لکھا وہ قابل تعریف ہے لکھتے ہیں: ’’ہندوستان پر حکومت کرناان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے
صفحہ 5774 سے 6203