ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے
ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے مگر نہ میرؔ کے غالبؔ کے ورثہ دار ملے جنون عشق کو دامن تو تار تار ملا مزا تو جب ہے گریباں بھی تار تار ملے بڑے مزے سے گزاری ہے زندگی میں نے خدا کے فضل سے حالات سازگار ملے کسی کے دل پہ بھلا اختیار کیا ہوگا بہت ہے اپنے ہی دل پر جو اختیار ملے یہ کیا ستم ...