چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے
چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے مری دعاؤں پہ لیکن تری نظر بھی ہے گھروں کو پھونکنے والے ذرا یہ دیکھ بھی لے اسی گلی میں سنا ہے کہ تیرا گھر بھی ہے میں گھر سے نکلوں تو بے خوف ہو نکلتا ہوں کہ میری ماں کی دعا میری ہم سفر بھی ہے ابھی سے فتنۂ دنیا سے ڈر گئے یارو ابھی تو فتنۂ افلاک ...