قومی زبان

چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے

چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے مری دعاؤں پہ لیکن تری نظر بھی ہے گھروں کو پھونکنے والے ذرا یہ دیکھ بھی لے اسی گلی میں سنا ہے کہ تیرا گھر بھی ہے میں گھر سے نکلوں تو بے خوف ہو نکلتا ہوں کہ میری ماں کی دعا میری ہم سفر بھی ہے ابھی سے فتنۂ دنیا سے ڈر گئے یارو ابھی تو فتنۂ افلاک ...

مزید پڑھیے

حصار ذات سے نکلا تو پھر سنبھل نہ سکا

حصار ذات سے نکلا تو پھر سنبھل نہ سکا انا کے بوجھ سے بیساکھیوں پہ چل نہ سکا سمٹ گئی جو بساط طرب ہے تیرے بعد نشاط محفل یاراں میں جی بہل نہ سکا مسافران رہ شوق یہ بھی یاد رہے طلسم ہوش ربا سے کوئی نکل نہ سکا تمام شورش دوراں تمام رنگ نشاط میں سنگ و خشت میں خود کو مگر بدل نہ سکا ندیمؔ ...

مزید پڑھیے

میں کس طلسم کے گھیرے میں ہوں پتا بھی نہیں

میں کس طلسم کے گھیرے میں ہوں پتا بھی نہیں کہ پاؤں چلتے رہے راستہ کٹا بھی نہیں ترا خیال بھی آئے تو کس طرح آئے ترا خیال تو دل سے کبھی گیا بھی نہیں نہ جانے کون یہ اندر چھپا ہوا ہے مرے میں اپنے جسم سے اتنا تو آشنا بھی نہیں کریں تو کیسے کریں حبس ٹوٹنے کی دعا یہ وہ دیار کہ چلتی یہاں ...

مزید پڑھیے

عذاب جتنے ہیں سارے ہماری خاطر ہیں

عذاب جتنے ہیں سارے ہماری خاطر ہیں تمہارے پاس تو مال و متاع وافر ہیں وہ جن کے پاؤں میں چل چل کے پڑ گئے چھالے وہ راہ عشق نہیں بھوک کے مسافر ہیں یہ شہہ کے ساتھ مصاحب بنے جو پھرتے ہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ سب لوگ تیری خاطر ہیں لہو نچوڑ کے گھر ہم کو بھیجنے والو ہمارے جسم کچلنے کو اب بھی ...

مزید پڑھیے

کام کتنا ہے زندگانی میں

کام کتنا ہے زندگانی میں اور وہ بلبلہ ہے پانی میں پل میں شعلہ تو پل میں ہے شبنم رنگ کتنے ہیں یار جانی میں کون کہتا ہے ہم نہیں ہوں گے ہم جئیں گے تری کہانی میں آنکھ کیا بھید کھول دیتی ہے کتنے قصے لکھے ہیں پانی میں اتنی امید لے کے بیٹھے ہو کون جیتا ہے دار فانی میں واعظ خوش بیان سب ...

مزید پڑھیے

ہوا کی زد پہ تو کوئی چراغ رہنے دے

ہوا کی زد پہ تو کوئی چراغ رہنے دے یہ حوصلوں کی لڑائی ہے اس کو چلنے دے نہ جانے کون بھٹکتا ہوا چلا آئے کواڑ بند کیا ہے دیا تو جلنے دے ابھی تو اور اٹھیں گے نقاب چہروں سے یہ اقتدار کا سورج تو اور ڈھلنے دے یہ کوئلہ سے بنا دیں گے تجھ کو اک ہیرا یہ اندروں میں ہے جو آگ اس کو جلنے دے کوئی ...

مزید پڑھیے

خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے

خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے نہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سے میسر جس سے آ جاتی تھی ساقی کی قدم بوسی مقدر میں نہیں وہ لغزش مستانہ برسوں سے بیاد چشم یار اک نعرۂ مستانہ اے ساقی کہ ہاؤ ہو سے خالی ہے ترا مے خانہ برسوں سے تجھے کچھ عشق و الفت کے سوا بھی یاد ہے اے ...

مزید پڑھیے

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو یہی جہان ...

مزید پڑھیے

نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو

نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو مئے کہن کی نگار جواں کی بات کرو کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو ضیا ہے شاہد و شمع و شراب سے اس کی فروغ محفل روحانیاں کی بات کرو جو مدعا ہو کسی قبلۂ مراد کا ذکر تو آستانۂ پیر مغاں کی بات کرو نہیں ہوا جو طلوع ...

مزید پڑھیے

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے حادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے زندگی کا ہے خلاصہ وہی اک لمحۂ شوق جو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے حال دل غم سے یہ ہے جیسے کسی صحرا میں ابھی اک قافلۂ نوحہ گراں گزرا ہے بزم دوشیں کو کرو یاد کہ اس کا ہر رند رونق بار گہ پیر مغاں گزرا ہے پا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5773 سے 6203