قومی زبان

چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے

چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے دل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سے کیسا روشن تھا ترا نیند میں ڈوبا چہرہ جیسے ابھرا ہو کسی خواب کی گہرائی سے وہی آشفتہ مزاجی وہی خوشیاں وہی غم عشق کا کام لیا ہم نے شناسائی سے نہ کبھی آنکھ بھر آئی نہ ترا نام لیا بچ کے چلتے رہے ہر کوچۂ رسوائی سے ہجر ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا کب کہاں نہیں معلوم

کیا ہوا کب کہاں نہیں معلوم کتنے اجڑے مکاں نہیں معلوم مجھ سے گلشن میں باغباں اتنا کیوں ہوا بد گماں نہیں معلوم دل بھی غائب ہے آج پہلو سے جانے ہوگا کہاں نہیں معلوم وہ ستم گر بھی حال پر میرے کب ہوا مہرباں نہیں معلوم مجھ کو جوش جنوں نے اے احمدؔ لا کے چھوڑا کہاں نہیں معلوم

مزید پڑھیے

غرور ذات کہیں نقد جاں میں چھوڑ آئے

غرور ذات کہیں نقد جاں میں چھوڑ آئے وہ آگ پھر اسی آتش فشاں میں چھوڑ آئے عذاب ہجر سے تیرے وصال لمحوں تک ہم اپنی ذات کہیں درمیاں میں چھوڑ آئے تمام عمر پھر اس کی تلاش میں بھٹکے وہ اک سکون جو کچے مکاں میں چھوڑ آئے نہ راس آیا اسے میری ذات کا ٹھہراؤ تو خود کو اس لئے برق تپاں میں چھوڑ ...

مزید پڑھیے

بکھر نہ جا کہیں خود کو مری پناہ میں رکھ

بکھر نہ جا کہیں خود کو مری پناہ میں رکھ ہیں تند و تیز جو دریا مری نگاہ میں رکھ جھکے نہ سر یہ کسی آستاں پہ تیرے سوا تو وہ غرور و انا اپنے کج کلاہ میں رکھ یہ کب کہا کہ محبت سے باز رہ لیکن پلٹ کے آ بھی سکے راستہ نگاہ میں رکھ فریب نفس سے محفوظ تو ہو ذات مری کہیں تو خوف کوئی لذت گناہ ...

مزید پڑھیے

نظر کے پاس رہ کر بھی پہنچ سے دور ہو جانا

نظر کے پاس رہ کر بھی پہنچ سے دور ہو جانا محبت میں اسے کہتے ہیں ہم مجبور ہو جانا خوشا اے دل مداوا ان کے زخموں کا نہیں ورنہ کہاں ہر زخم کی قسمت میں ہے ناسور ہو جانا بڑھانا اس طرح سے بے قراری اور بھی دل کی جھلک عشاق کو دکھلا کے پھر مستور ہو جانا محبت کا ہمارا دائرہ بس اتباع تک ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھنے میں تو بس خاک مختصر ہوں میں

یوں دیکھنے میں تو بس خاک مختصر ہوں میں مجھے کرید کبھی خود میں بحر و بر ہوں میں ازل سے تا بہ ابد پھیلی ہیں جڑیں میری کبھی نہ آئی خزاں جس پہ وہ شجر ہوں میں ہے بعد خلد بدر اک عذاب در بدری جسے تلاش ہے منزل کی وہ خضر ہوں میں کبھی نگاہوں میں ہوتا ہے عالم بالا کبھی وجود سے ہی اپنے بے خبر ...

مزید پڑھیے

یوں کر رہے ہیں محبت میں احتیاط اب کے (ردیف .. ہ)

یوں کر رہے ہیں محبت میں احتیاط اب کے کہ دور رہ کے کیا ان سے ارتباط اب کے سفر تھا دل کا کسی دشت بے کراں جیسا نظر نے دیکھا ہے سایہ نہ ہی رباط اب کے چلی ہے کیسی ہوا جانے صحن گلشن میں کہ چھن گئی ہے لب گل سے انبساط اب کے میں ہارنے کے لئے کھیلوں زیست کی بازی بچھا اے زندگی ایسی کوئی بساط ...

مزید پڑھیے

یوں چاہتوں میں کوئی رنج آشنائی نہ دے

یوں چاہتوں میں کوئی رنج آشنائی نہ دے کہ دل ہو راکھ مگر آگ بھی دکھائی نہ دے اسیر دام محبت کہاں سے ہو آزاد کہ ان کی زلف کی زنجیر جب رہائی نہ دے کہاں سے سنتا صدا میری اس ہجوم میں وہ پکارو خود کو تو آواز بھی سنائی نہ دے ہجوم لفظ سے کیا چمکے سینۂ قرطاس ترا خیال قلم کو جو روشنائی نہ ...

مزید پڑھیے

ہوا وہ خوب رو یوں بے حجاب آہستہ آہستہ

ہوا وہ خوب رو یوں بے حجاب آہستہ آہستہ نظر دیکھے ہے جیسے کوئی خواب آہستہ آہستہ بنے جیسے کلی کوئی گلاب آہستہ آہستہ یوں کچھ اس شوخ پر آیا شباب آہستہ آہستہ بڑھا ہے درد دل اور اضطراب آہستہ آہستہ ہوئے عاشق گرفتار عذاب آہستہ آہستہ ہے کیسا سحر یہ مدہوش کر کے تشنہ لب رکھا پلائی اس نظر ...

مزید پڑھیے

یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے

یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے پھر بھی اس کا قرب رکھتا ہے بہت پیاسا مجھے زندگی بس یار کے غم پر نہیں ہے منحصر رات دن بے چین رکھتا ہے غم دنیا مجھے اب تو ان زخموں سے میری آشنائی ہو گئی چارہ گر بہتر یہی ہے اب نہ کر اچھا مجھے میں کہ جس کے واسطے برسوں رہا اک آب جو جاتے جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5606 سے 6203