دلوں پہ یوں بھی عجب اختیار دیکھا ہے
دلوں پہ یوں بھی عجب اختیار دیکھا ہے جو پر سکوں تھے انہیں بیقرار دیکھا ہے ہلا سکے نہ قدم جن کے بادہ و ساغر انہی پہ زلف و نظر کا خمار دیکھا ہے ہے امتزاج عجب رنگ و حسن کا اس میں کہ جس نے دیکھا اسے بار بار دیکھا ہے کھلا ہے راز پس مرگ ذات کا اپنی فضا میں اڑتا ہوا جب غبار دیکھا ہے جو آ ...