قومی زبان

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں سلگتا ہے کچھ اپنے اندر میاں میں خود تو بھٹکنے کا قائل نہیں گھماتا پھرے ہے مقدر میاں گماں بیٹھے بیٹھے یہ اکثر ہوا گیا ہے ابھی کوئی اٹھ کر میاں یہ مانا کہ دیوار و در ہیں وہی مگر اب یہ لگتا نہیں گھر میاں مرے رخ پہ تحریر کیا کچھ نہیں کبھی کوئی دیکھے ...

مزید پڑھیے

کوئی آہٹ کوئی دستک کوئی جھنکار تو ہو

کوئی آہٹ کوئی دستک کوئی جھنکار تو ہو اس کی جانب سے کسی بات کا اظہار تو ہو بخل سے کام نہ لوں گا میں سراہوں گا اسے کوئی چہرہ ترے مانند طرحدار تو ہو زخم سہہ لوں گا منڈیروں پہ لگے شیشوں کے کوئی شے دید کے قابل پس دیوار تو ہو چند لمحوں کی مسافت ہو کہ برسوں کا سفر کیف پرور ہیں سبھی سنگ ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ چلیں

صدیوں پہلے آدمی جنگل سے میدان کی سمت آیا تھا بستیاں بسا کر زندگی گزارنے کے لئے مگر اب بستیاں ہی جنگل بن گئی ہیں جہاں انسان جانور سے بد تر خصلتوں کا حامل ہو گیا ہے چلو پھر جنگل کی طرف لوٹ چلیں فطرت سے قریب ہونے کے لئے پر سکون زندگی کی تلاش میں

مزید پڑھیے

مگر میں کیا کروں

پھل آنے پر شاخیں جھکتی ہیں پھول اپنا اشتہار نہیں دیا کرتے ان کا رنگ اور خوشبو خود بہ خود لوگوں کو اپنی سمت کھینچتی ہے یہ اور ایسی تمام دوسری کہاوتیں مجھے ہمیشہ اپیل کرتی ہیں مگر میں کیا کروں مرے آس پاس زیادہ تر لوگ بات بات پر اپنی تعریف کرتے نہیں تھکتے

مزید پڑھیے

آج پھر

مجھے آج پھر وہ نظم شدت سے یاد آئی جو میں نے برسوں پہلے ایک خواب کے بکھر جانے پر کہی تھی ویسے میں نے عرصے سے خواب دیکھنا بند کر دیا تھا یعنی سرابوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیا تھا مگر خواب کب پیچھا چھوڑتے ہیں ادھر پھر کچھ دنوں سے ایک خواب آنکھوں میں رہا جس کے خوب صورت رنگ محل کے تانے ...

مزید پڑھیے

ایسا لگتا ہے

اس کے ارادوں رویوں اور منصوبوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس نے اپنے گھر کے سارے آئینوں کو توڑ دیا ہے

مزید پڑھیے

اس بار

یہ خواہش ہے اس بار بادل جو آئیں تو سر پر ہمارے رہیں کچھ دنوں یہ کالے سے بھورے سے بادل پھر ان کا ہو کچھ اس طرح سے ملن بڑے زور کی گھن گرج ہو بہت دور تک بجلیاں کوند جائیں جھما جھم ہو بارش زمیں جو کہ عرصے سے تپتی رہی ہے وہ سیراب ہو جائے کچھ اس طرح سے کہ اس پر ردا اک ہری پھیل جائے ہوا ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی خلش ہے

منوں مٹی کے نیچے دب کے مردہ جسم کا کیا حشر ہوتا ہے بخوبی جانتا ہوں میں سبھی کچھ خاک ہو جاتا ہے کچھ دن میں یہ سب کچھ جان کر بھی جانے یہ کیسی خلش ہے جو مجھے اکثر ترے مرقد پہ لاتی ہے کبھی نم دیدہ کرتی ہے کبھی ڈھارس بندھاتی ہے کبھی یادوں کے اس رنگین محل میں لے کے جاتی ہے جہاں پر حسن ہے ...

مزید پڑھیے

شیشے شیشے کو پیوست جاں مت کرو

شیشے شیشے کو پیوست جاں مت کرو چند تنکوں کو اتنا گراں مت کرو روشنی جس جگہ جھانکتی بھی نہیں اس اندھیرے کو تم آسماں مت کرو ایک کمرے میں رہنا ہے سب کو یہاں گیلے پتے جلا کر دھواں مت کرو دشمنی تو ہواؤں میں موجود ہے کوئی زحمت پئے دوستاں مت کرو کیا پتہ کس کے دامن تلے آگ ہے سب کے چہروں ...

مزید پڑھیے

گھر گھر آپس میں دشمنی بھی ہے

گھر گھر آپس میں دشمنی بھی ہے بس کھچا کھچ بھری ہوئی بھی ہے ایک لمحے کے واسطے ہی سہی کالے بادل میں روشنی بھی ہے نیند کو لوگ موت کہتے ہیں خواب کا نام زندگی بھی ہے راستہ کاٹنا ہنر تیرا ورنہ آواز ٹوٹتی بھی ہے خوبیوں سے ہے پاک میری ذات میرے عیبوں میں شاعری بھی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5516 سے 6203