قومی زبان

پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی

پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی پھر مسلسل سزا ہوا تھا کوئی اب تو ظلمت بدست پھرتے ہیں کوئی دن تھے ضیا ہوا تھا کوئی کیا یہی بات کر رہے ہیں آپ کبھی عہد وفا ہوا تھا کوئی اب جدائی کی راہ پڑتی ہے بس یہیں تک دعا ہوا تھا کوئی دھند میں بس گئے تھے سب منظر بس اچانک خفا ہوا تھا کوئی برق گرتی ...

مزید پڑھیے

نہ اب وہ پہلی سی طرز گریہ نہ شام غم کی ہما ہمی ہے (ردیف .. ن)

نہ اب وہ پہلی سی طرز گریہ نہ شام غم کی ہما ہمی ہے بے اشک آنکھوں کے رتجگوں میں خیال سارے بجھے ہوئے ہیں سنہری گھڑیوں کا لمس تھا وہ مرے تکلم کے بانکپن میں مگر یہ عالم ہے اب کہ الفاظ ابر غم میں گھرے ہوئے ہیں تمہارے در کو ہی تکتے رہنا مچلتے جذبوں کی شوخیوں میں مگر اب اس چشم ناتواں میں ...

مزید پڑھیے

وحشت کے تلون میں گزری کہ گزار آئے

وحشت کے تلون میں گزری کہ گزار آئے اک عہد بجھا آئے اک عمر کو ہار آئے تم لوگ بھی کیا سمجھو تم لوگ بھی کیا جانو کس خواب اثاثے کو مٹی میں اتار آئے وہ رنگ جو بھیجے تھے اس چشم فسوں گر کو وہ رنگ وہیں اپنی تابانی کو وار آئے اب آبلہ پائی ہے لمحوں کی گرانی ہے خوش باش گئے تھے جو وہ سینہ فگار ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ (ردیف .. ن)

بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ اور مصرعوں میں چھپے درد ہمیں جانتے ہیں یوں گلے ملتے ہیں بچھڑا ہوا جیسے مل جائے تیرے کوچے میں پلے درد ہمیں جانتے ہیں ہم سے شاہان محبت کا پتہ پوچھتے ہو عشق آباد کے بے درد ہمیں جانتے ہیں ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے یار آخر شب دل کی سرحد پہ کھڑے ...

مزید پڑھیے

شام کی دھند سے اک حسن نے جھانکا تو کوئی نظم ہوئی

شام کی دھند سے اک حسن نے جھانکا تو کوئی نظم ہوئی بسکہ پھر غم وہی اک غم جو خوش آیا تو کوئی نظم ہوئی دل بے تاب محبت کی ملامت کا امیں ڈر سا گیا رہ بدلنا کبھی اس شخص نے چاہا تو کوئی نظم ہوئی کس کا سایہ تھا کڑی دھوپ میں اک اور الاؤ کا بیاں کون تھا زخم مرا مجھ کو دکھایا تو کوئی نظم ...

مزید پڑھیے

میں کہ خوددار تھا ٹھہرا نہ کسی چھاؤں تلے

میں کہ خوددار تھا ٹھہرا نہ کسی چھاؤں تلے گو کہ رستے میں ملے تھے کئی اشجار گھنے ذہن وہ شہر جہاں نت نیا ہیجان رہے دل وہ بستی کہ جہاں خواب اگیں درد پلے زندگانی یہ تری تیز روی ٹھیک نہیں کوئی چہرہ تو ذرا دیر نگاہوں میں رہے کب شب و روز کے ہنگام نے مہلت بخشی میں نے دوران سفر ہی نئے ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے ہوئے ہر شخص کو تکتے کیوں ہو

آتے جاتے ہوئے ہر شخص کو تکتے کیوں ہو گنجلک ہیں سبھی تحریریں تو پڑھتے کیوں ہو صرف سناٹا وہاں راہ تکا کرتا ہے بے سبب شام سے ہی گھر کو پلٹتے کیوں ہو یہ نہیں گاؤں کہ ہر شخص خلوص آگیں ہو شہر میں رہ کے بناوٹ سے بدکتے کیوں ہو

مزید پڑھیے

اپنے اجداد کی خو بو آئے

اپنے اجداد کی خو بو آئے کاش بچوں کو بھی اردو آئے ہم چمن میں ہیں تو یہ خواہش ہے اپنے حصے میں بھی خوشبو آئے یاد آئی جو کسی کی تو لگا دست احساس میں جگنو آئے بات نکلی تو گئی دور تلک گفتگو میں کئی پہلو آئے سب ہیں انسان تو پھر ذہنوں میں کیوں یہ تفریق من و تو آئے خشک آنکھوں میں بڑی ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل تھا پر ایسا نہیں تھا

شکستہ دل تھا پر ایسا نہیں تھا میں اپنے آپ میں سمٹا نہیں تھا درختوں کے گھنے سائے میں رہ کر چمکتی دھوپ کو بھولا نہیں تھا در و دیوار میرے منتظر تھے مگر میں لوٹ کر آیا نہیں تھا بہت سے لوگ مجھ سے ملتفت تھے کسی کی سمت میں لپکا نہیں تھا دبے پاؤں وہی در آیا دل میں کہ جس کا دور تک کھٹکا ...

مزید پڑھیے

بدن کو چنگ بنا روح کو رباب بنا

بدن کو چنگ بنا روح کو رباب بنا سراپا اپنا بہت کیف اضطراب بنا اک اشتہار کی صورت میں پڑھ کے آگے نکل نہ اپنے واسطے ہر شخص کو کتاب بنا مرے سوالوں کو سن لے یہی بہت ہوگا جواب دے کے مجھے یوں نہ لا جواب بنا فسردہ رہ کے ہمہ وقت کیا ملے گا تجھے کبھی کبھار تو چہرے کو تو گلاب بنا ضمیر پر جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5515 سے 6203