قومی زبان

احسان ایک مجھ پہ یہ کر جانا چاہئے

احسان ایک مجھ پہ یہ کر جانا چاہئے ان کو محبتوں سے مکر جانا چاہئے عاشق کوئی ستم یہ بھلا کب تلک سہے زلفوں کو خود بخود ہی سنور جانا چاہئے دیکھو زمانہ پہلے سے کتنا بدل گیا اب زاہدو تمہیں بھی سدھر جانا چاہئے لشکر تمام مد مقابل میں ایک کے دشمن کو میرے شرم سے مر جانا چاہئے ہجرت سہی ...

مزید پڑھیے

ستم شعار زمانے پہ خوف طاری رکھ

ستم شعار زمانے پہ خوف طاری رکھ ملے تو جب بھی شریفوں سے انکساری رکھ تجھے ملے گا ترا مدعا ضرور اک دن مگر ہے شرط مسلسل تلاش جاری رکھ یہ تیرا حسن کہیں حادثہ نہ بن جائے ستم ظریف زمانے سے ہوشیاری رکھ سفر پہ کب تجھے جانا پڑے یہ کیا معلوم جو کام وقت پہ آئے وہی سواری رکھ تجھے وقار ...

مزید پڑھیے

زمانے کے ہمیں دستور اپنانے بھی ہوتے ہیں

زمانے کے ہمیں دستور اپنانے بھی ہوتے ہیں مسائل ہوں اگر الجھے تو سلجھانے بھی ہوتے ہیں خوشی ملتی ہے جن کو ان کو غم پانے بھی ہوتے ہیں جو پاتے ہیں عروج ان پر زوال آنے بھی ہوتے ہیں غزل گوئی سے ہم بھی ربط رکھتے ہیں اسی باعث کبھی دل دوستوں کے ہم کو بہلانے بھی ہوتے ہیں ہماری عزت و ناموس ...

مزید پڑھیے

تلاش کر مری بربادیوں کا حل بابا

تلاش کر مری بربادیوں کا حل بابا جو تو کہے گا کروں گا وہی عمل بابا طرح طرح کے یہ چولے نہ تو بدل بابا تجھے جو فیصلہ کرنا ہے کر اٹل بابا فقیر بن نہیں سکتا تو اوڑھ کر کملی خودی کو دل سے مٹا نفس کو کچل بابا نشے میں زر کے بہت پگڑیاں اچھالی ہیں ضرور تجھ کو ملے گا کیے کا پھل بابا تری ...

مزید پڑھیے

سورج ڈوبا نکلا چاند

سورج ڈوبا نکلا چاند چھت پر آیا میرا چاند عید کا سب نے دیکھا چاند ہم نے دیکھا اپنا چاند دیوانے بے تاب ہوئے جب پردے سے جھانکا چاند اس کا دشمن کوئی نہیں سب کے لئے ہے پیارا چاند عہد جوانی میں اکثر ہوتا ہے شرمیلا چاند دیکھتے ہی اس کا چہرہ بادل میں چھپ جاتا چاند آپ کے آنگن میں ...

مزید پڑھیے

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں تمہاری باتوں کا ہر توقف ...

مزید پڑھیے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفہ کو کوئی نہ سمجھا جب اس کے کمرے سے لاش ...

مزید پڑھیے

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا ...

مزید پڑھیے

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرہ لکھا تھا لاش کے ننھے ہاتھ میں بستہ اور اک کھٹی گولی تھی خون میں ڈوبی اک تختی پر غین غبارہ لکھا تھا آخر ہم ہی مجرم ٹھہرے جانے کن کن جرموں کے فرد عمل تھی جانے کس کی نام ہمارا لکھا تھا سب نے مانا مرنے والا ...

مزید پڑھیے

دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں (ردیف .. ا)

دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں کیا ضروری ہے ضرورت سے الگ ہو جانا عین ممکن ہے سمجھ تم کو نہ آؤں اس سال تم یہی کرنا کہ عجلت سے الگ ہو جانا یہ کہیں چھین نہ لے صبر کی دولت تم سے دل دھواں کرتی قیامت سے الگ ہو جانا وہ تمہیں بھول کے پاگل بھی تو ہو سکتا ہے دیکھ کر وقت سہولت سے الگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5514 سے 6203