محرومی
تو بھی تقدیر نہیں درد بھی پایندہ نہیں تجھ سے وابستہ وہ اک عہد وہ پیمان وفا رات کے آخری آنسو کی طرح ڈوب گیا خواب انگیز نگاہیں وہ لب درد فریب اک فسانہ ہے جو کچھ یاد رہا کچھ نہ رہا میرے دامن میں نہ کلیاں ہیں نہ کانٹے نہ غبار شام کے سائے میں واماندہ سحر بیٹھ گئی کارواں لوٹ گیا مل نہ ...