قومی زبان

محرومی

تو بھی تقدیر نہیں درد بھی پایندہ نہیں تجھ سے وابستہ وہ اک عہد وہ پیمان وفا رات کے آخری آنسو کی طرح ڈوب گیا خواب انگیز نگاہیں وہ لب درد فریب اک فسانہ ہے جو کچھ یاد رہا کچھ نہ رہا میرے دامن میں نہ کلیاں ہیں نہ کانٹے نہ غبار شام کے سائے میں واماندہ سحر بیٹھ گئی کارواں لوٹ گیا مل نہ ...

مزید پڑھیے

اعتماد

بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو یوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھی بولی میرے لیے ایک تنکا ہے تو یوں بہا دوں گی میں، آتش تند کی اک لپٹ نے کہا میں جلا ڈالوں گی اور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گی میں نے چہرے سے اپنے الٹ دی نقاب اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں ابن آدم ہوں میں یعنی انسان ہوں

مزید پڑھیے

مسجد

دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملول جس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچے ماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرح اپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلس پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے اور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھی گیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے گرد ...

مزید پڑھیے

بے تعلقی

شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے جو کبھی خون جگر بن کے مژہ پر آیا آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی ...

مزید پڑھیے

تبدیلی

اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے راہ چلتے کو پہچان لے اور آواز دے او بے او سرپھرے دونوں اک دوسرے سے لپٹ کر وہیں گرد و پیش اور ماحول کو بھول کر گالیاں دیں ہنسیں ہاتھاپائی کریں پاس کے پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر گھنٹوں اک دوسرے کی سنیں اور کہیں اور اس نیک روحوں کے بازار میں میری ...

مزید پڑھیے

شیشہ کا آدمی

اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریں ہماری عمر کا اک اور دن تمام ہوا خدا کا شکر بجا لائیں آج کے دن بھی نہ کوئی واقعہ گزرا نہ ایسا کام ہوا زباں سے کلمۂ حق راست کچھ کہا جاتا ضمیر جاگتا اور اپنا امتحاں ہوتا خدا کا شکر بجا لائیں آج کا دن بھی اسی طرح سے کٹا منہ اندھیرے اٹھ بیٹھے پیالی چائے ...

مزید پڑھیے

لوگو اے لوگو

مری انتہائے محبت مسرت سوا اس کے کیا اور ہوگی بجائے کوئی مسند‌‌ عالیہ تخت طاؤس و زر مانگنے کے بجائے کوئی سر برآوردہ پتھر صفت شخصیت چاہنے کے تمہاری معیت رفاقت تگ و دو کا انداز مانگوں یہ جم غفیر ایک سیل رواں زندگی کا جولا سے نکل کر اسی لا میں پھر ڈوب جاتا ہے یہ ریت ہے یوں ہی ...

مزید پڑھیے

سکون

نہ زہر خندہ لبوں پر، نہ آنکھ میں آنسو نہ زخم ہائے دروں کو ہے جستجوئے مآل نہ تیرگی کا تلاطم، نہ سیل رنگ و نور نہ خار زار تمنا میں گمرہی کا خیال نہ آتش گل لالہ کا داغ سینے میں نہ شورش غم پنہاں نہ آرزوئے وصال نہ اشتیاق، نہ حیرت، نہ اضطراب، نہ سوگ سکوت شام میں کھوئی ہوئی کہانی کا طویل ...

مزید پڑھیے

مفاہمت

جب اس کا بوسہ لیتا تھا سگریٹ کی بو نتھنوں میں گھس جاتی تھی میں تمباکو نوشی کو اک عیب سمجھتا آیا ہوں لیکن اب میں عادی ہوں، یہ میری ذات کا حصہ ہے وہ بھی میرے دانتوں کی بد رنگی سے مانوس ہے، ان کی عادی ہے جب ہم دونوں ملتے ہیں، لفظوں سے بیگانہ سے ہو جاتے ہیں کمرے میں کچھ سانسیں اور ...

مزید پڑھیے

کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام

جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہے اور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھن بازاروں کی گرمی، افرا تفری موٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہے چائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکے اپنے ہم سن معشوقوں کو جن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہے لے کر جا چکتے ہیں بڑھتی پھیلتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5419 سے 6203