شوخ پتے لہلہاتے ہیں شجر کے
شوخ پتے لہلہاتے ہیں شجر کے جیسے کوئی اشتہار اپنے ہنر کے کتنے کچے راستے ہیں اس شہر میں شعر جیسے بن پڑے ہوں بے بحر کے سو مکانیں پھر کہیں توڑی گئیں تو ایک پتلا پھر کہیں آیا ابھر کے جب کریں گے گفتگو تنہائیوں سے تب بنیں گے ہم سفر خود ہم سفر کے پاس بیٹھو بھی کبھی کاجل لگائے حوصلے ...