غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور
غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور کر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی جی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور تربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت حیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت تقدیر میں ہے حسرت و ...