قومی زبان

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور کر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی جی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور تربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت حیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت تقدیر میں ہے حسرت و ...

مزید پڑھیے

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے مگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہے اس ادا سے کون یہ جلوہ گر سر بزم حسن خیال ہے جو نفس ہے مست بہار ہے جو نظر ہے غرق جمال ہے انہیں ضد ہے عرض وصال سے مجھے شوق عرض وصال ہے وہی اب بھی ان کا جواب ہے وہی اب بھی میرا سوال ...

مزید پڑھیے

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے اب دل کوئی پہلو ہو سنبھلتا ہی نہیں ہے بے چین کئے رہتی ہے جس کی طلب دید اب بام پہ وہ چاند نکلتا ہی نہیں ہے اک عمر سے دنیا کا ہے بس ایک ہی عالم یہ کیا کہ فلک رنگ بدلتا ہی نہیں ہے ناکام رہا ان کی نگاہوں کا فسوں بھی اس وقت تو جادو کوئی چلتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا

کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا کبھی فریب کوئی آئنہ نہیں دیتا حسد کا رنگ پسندیدہ رنگ ہے سب کا یہاں کسی کو کوئی اب دعا نہیں دیتا اک اعتماد تھا باقی سو اٹھ گیا وہ بھی کہ بھائی بھائی کے گھر کا پتا نہیں دیتا بجھائے جب سے ہمارے چراغ لوگوں نے کوئی درخت ہمیں اب ہوا نہیں دیتا ہمیں ...

مزید پڑھیے

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت اپنا زمانہ یاد آتا ہے سورج ڈھلتے وقت بہت وہ پرچم وہ سر کے طرے اور وہ سفینے اپنے تھے جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت پل بھر میں پانی ہوتے ...

مزید پڑھیے

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا اخترؔ جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا تم بھی سنتے تو رو ...

مزید پڑھیے

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے جس کو رکھنا ہو بھرم ساتھ چلے اسی حسرت میں کٹی راہ حیات کوئی دو چار قدم ساتھ چلے خار زاروں میں جہاں کوئی نہ تھا بن کے ہم دم ترے غم ساتھ چلے ہم سے رندوں کا ٹھکانا کیا ہے تم کہاں شیخ حرم ساتھ چلے وادئ شب کی کٹھن راہوں میں لوگ کترا گئے کم ساتھ چلے

مزید پڑھیے

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا مئے کہنہ نہ سہی خون تمنا ہی سہی ایک پیمانہ مرے سامنے لایا تو گیا خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا اب یہ بات اور کہ زنداں میں بھی زنجیریں ہیں ہم کو گلشن کی بلاؤں سے بچایا تو ...

مزید پڑھیے

بھول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں

بھول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں یاد پر آتا رہے یہ بھی گوارہ تو نہیں دل دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے مرا وہ تمہارا وہ تمہارا وہ تمہارا تو نہیں آج کل پتھر اٹھا کر سوچتا ہے ہر کوئی سامنے انسان ہے لیکن ہمارا تو نہیں خواب کتنے شاد ہیں اور رات بھی آباد ہے جاگ کر میں نے ہی خود ان ...

مزید پڑھیے

ڈر کیوں جاتے ہیں یہ ڈرنے والے لوگ

ڈر کیوں جاتے ہیں یہ ڈرنے والے لوگ مرنے سے پہلے ہی مرنے والے لوگ عمر کے کتنے پیارے سال بچاتے ہیں پیار محبت عشق نہ کرنے والے لوگ لوگ وہ کتنی چین کی نیندیں سوتے ہیں وعدہ کر کے جلد مکرنے والے لوگ اک دن ساری دھرتی کو کھا جائیں گے گھاس کے پیچھے مٹی چرنے والے لوگ جیتے جی کیوں اتنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5379 سے 6203