قومی زبان

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پاس شباب ہے ساقی اٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگی وہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردۂ مینا سے دختر رز کو گھٹا میں کس لئے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی نہ سن میکشوں ...

مزید پڑھیے

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے باوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئے اور بھی رہتے ابھی کچھ دن نظر کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے خفا کیوں ہو گئے ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے کس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کو اس طرح پردیس جا ...

مزید پڑھیے

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہد بار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتی ہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب عیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا عظمت ...

مزید پڑھیے

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم کہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہم کس ماہ لقا کے عشق میں یوں بے چین ہیں ہم بیتاب ہیں ہم کرنوں کی طرح آوارہ ہیں ہم تاروں کی طرح بے خواب ہیں ہم مٹ جانے پہ بھی مسرور ہیں ہم مرجھانے پہ بھی شاداب ہیں ہم شہبائے شباب و ...

مزید پڑھیے

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں مے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں دل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمال ہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں بھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہ ساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں پاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسن ہم چرا کر تری دزدیدہ ...

مزید پڑھیے

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر ...

مزید پڑھیے

ریت صحرا نہیں

ریت صحرا نہیں، ریت دریا نہیں ریت بس ریت ہے میں فقط میں ہوں اور میری تصویر پر جو ہے مذکور پہچان میری نہیں مجھ میں کتنا ازل مجھ میں کتنا ابد، کتنی تاریخ ہے میں نہیں جانتا ایسے دن رات کو دل نہیں مانتا، پور پر جن کی گنتی ٹھہرتی نہیں آج بس آج ہے کل سحر تک یہی آج تاراج ہے

مزید پڑھیے

میں غیر محفوظ رات سے ڈرتا ہوں

رات کے فرش پر موت کی آہٹیں پھر کوئی در کھلا کون اس گھر کے پہرے پہ مامور تھا کس کے بالوں کی لٹ کس کے کانوں کے در کس کے ہاتھوں کا زر، سرخ دہلیز پر قاصدوں کو ملا؟ کوئی پہرے پہ ہو تو گواہی ملے یہ شکستہ شجر یہ شکستہ شجر جس کے پاؤں میں خود اپنے سائے کی موہوم زنجیر ہے یہ شکستہ شجر تو محافظ ...

مزید پڑھیے

اک انعام کے کتنے نام ہیں

اک پہچان کے کتنے اسم ہیں اک انعام کے کتنے نام ہیں تیرا نام وہ بادل جس کا پیغمبر پر دشت جبل میں سایا ہے تیرا نام وہ برکھا جس کا رم جھم پانی وادی میں دریا کہلائے اور سمندر بنتا جائے تیرا نام وہ سورج جس کا سونا سب کی ملکیت ہے جس کا سکہ ملکوں ملکوں جاری ہے تیرا نام وہ حرف جسے امکان کی ...

مزید پڑھیے

امتناع کا مہینہ

اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے تیر بکتے نہ تھے بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے اس مہینے میں غارتگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میں دوش پر گردن خم سلامت رہے کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5381 سے 6203