غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پاس شباب ہے ساقی اٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگی وہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردۂ مینا سے دختر رز کو گھٹا میں کس لئے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی نہ سن میکشوں ...