قومی زبان

کون کہتا ہے سر عرش بریں رہتا ہے

کون کہتا ہے سر عرش بریں رہتا ہے وہ تو اک درد ہے جو دل کے قریں رہتا ہے چاند پر اپنے قدم آپ نے کیوں روک لیے ایک گام اور کہ سورج بھی یہیں رہتا ہے شمع کی طرح پگھلتا ہوں میں لمحہ لمحہ میرے احساس میں اک شعلہ جبیں رہتا ہے دل کے دروازے پہ اب کس کو صدا دیتے ہو مدتیں گزریں یہاں کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

روشنی لے کے کہیں چاند کہیں تاروں سے

روشنی لے کے کہیں چاند کہیں تاروں سے ہم بھی گزرے تھے کبھی وقت کے بازاروں سے زندگی تجھ سے ترے غم سے تو انکار نہیں ہاں مگر لذت غم چھن گئی غم خواروں سے عظمت رفتہ کی مٹتی ہوئی تصویر ہیں ہم ہم کو لٹکائیے گرتی ہوئی دیواروں سے اس سے پہلے کہ چھڑے ذکر وفا پیار کی بات مشورہ کر لو ذرا وقت ...

مزید پڑھیے

دل کو ہر حال میں مصروف دعا رکھا ہے

دل کو ہر حال میں مصروف دعا رکھا ہے میں نے یہ جرم بھی اپنے پہ روا رکھا ہے میری ہر سانس رسولوں کی زباں ہے جیسے میں نے ہر سانس میں اک حرف وفا رکھا ہے آپ تو گرمیٔ حالات سے گھبراتے ہیں ہم نے سورج کو بھی سینے میں چھپا رکھا ہے آگہی گرم سفر ہے نئی منزل کی طرف چاند کا ذکر ہی کیا چاند میں ...

مزید پڑھیے

صبح آتی ہے مسرت کے پیامات لئے (ردیف .. ن)

صبح آتی ہے مسرت کے پیامات لئے زندگانی کے مہکتے ہوئے نغمات لئے شام کے دوش پہ لہراتا ہے رنگیں آنچل شب کی آغوش میں کھلتا ہے گلستان‌ غزل اس لئے میرؔ کی غالبؔ کی غزل کہتے ہیں شہر کو میرے سبھی تاج محل کہتے ہیں سوچتا ہوں نئے ماحول میں کیا بات ہوئی مدتوں بعد سحر آئی تو کیوں رات ...

مزید پڑھیے

وہی سفر جو پس کارواں نہیں ہوتا

وہی سفر جو پس کارواں نہیں ہوتا مرا سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا میں چاہتا ہوں کہ ارمان دسترس میں رہیں مجھے پتا ہے کہ بام آسماں نہیں ہوتا ہزار چیخوں میں سنتا ہوں اس کی خاموشی کوئی بھی زخم کبھی بے زباں نہیں ہوتا اگر وہ دریا ترے شہر سے گزرتا نہیں رواں تو ہوتا پر اتنا رواں نہیں ...

مزید پڑھیے

گفتگو ایک پل رکی بھی نہیں

گفتگو ایک پل رکی بھی نہیں بات کرنی تھی جو ہوئی بھی نہیں ایسے دیکھو تو سب ادھورا ہے ویسے دیکھو تو کچھ کمی بھی نہیں ہم بجھائیں گے ہم بجھائیں گے آگ جو ٹھیک سے لگی بھی نہیں مجھ سے اک شکوہ ہے زمانے کو چال پوچھی بھی اور چلی بھی نہیں ربط ٹوٹا تو ٹوٹ جانے دیا جسم کے ساتھ روح تھی بھی ...

مزید پڑھیے

کسے خبر تھی کہ جیتے جی بھی وہ دور آئے گا زندگی کا

کسے خبر تھی کہ جیتے جی بھی وہ دور آئے گا زندگی کا کہ ہوگا محسوس ہر نفس یہ نہ کوئی میرا نہ میں کسی کا حدود وہم و گماں سے گزرا مکاں تو کیا لا مکاں سے گزرا رکے گا آخر کہاں پہنچ کر یہ کارواں ذوق آگہی کا جو میرے دل سے تھا ان کو کرنا نہ کر سکیں آپ کی نگاہیں مری طبیعت میں نقص جو ہے قصور ...

مزید پڑھیے

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے وہی حاصل تھے زندگانی کے چار دن جو بہار میں گزرے کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم دل بے اعتبار میں گزرے کتنی کلیوں کے کتنے پھولوں کے قافلے نو بہار میں گزرے زندگی کے لیے ملے تھے جو دن موت کے انتظار میں گزرے حسرتوں کے ہجوم میں تری ...

مزید پڑھیے

مرے بدن سے کبھی آنچ اس طرح آئے

مرے بدن سے کبھی آنچ اس طرح آئے لپٹ کے مجھ سے مرے ساتھ وہ بھی جل جائے میں آگ ہوں تو مرے پاس کوئی کیوں بیٹھے میں راکھ ہوں تو کوئی کیوں کریدنے آئے بھرے دیار میں اب اس کو کس طرح ڈھونڈیں ہوا چلے تو کہیں بوئے ہم نفس آئے یہ رات اور روایات کی یہ زنجیریں گلی کے موڑ سے دو لوٹتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے تری گلی سے جو گزرے تو لڑکھڑا کے چلے ہمیں بھی قصۂ دار و رسن سے نسبت ہے فقیہ شہر سے کہہ دو نظر ملا کے چلے کوئی تو جانے کہ گزری ہے دل پہ کیا جب بھی خزاں کے باغ میں جھونکے خنک ہوا کے چلے اب اعتراف جفا اور کس طرح ہوگا کہ تیری بزم میں قصے مری وفا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5216 سے 6203