گھٹن بھی دیکھ رہی ہے مجھے حیرانی سے
گھٹن بھی دیکھ رہی ہے مجھے حیرانی سے کہیں میں اوب ہی جاؤں نہ اس جوانی سے سزائے موت نہیں عمر قید کاٹو گے یہ حکم آ ہی گیا دل کی راجدھانی سے ذرا سا عشق کیا اور اب یہ حالت ہے وہ بہہ رہا ہے رگوں میں عجب روانی سے اداسیوں میں بھی شکوا بھلا کریں کس سے بچا ہے کون محبت میں رائیگانی سے کبھی ...