یوں بے دم ہیں سانسیں گھٹن کچھ نہیں ہے
یوں بے دم ہیں سانسیں گھٹن کچھ نہیں ہے کسی درد کی اب چبھن کچھ نہیں ہے کھلونے ہیں مٹی کے ہم سب یہاں پر حقیقت یہی ہے بدن کچھ نہیں ہے یہ مانا کہ پیکر بہت کچھ ہے لیکن بنا روح یہ پیرہن کچھ نہیں ہے لگی آگ خوابوں میں اتنی کہ سمجھو یہ آنکھوں کی میرے جلن کچھ نہیں ہے میں خود مستقل ہوں سفر ...