گھپ خاموشی جیسے قبرستان میں ہوں
گھپ خاموشی جیسے قبرستان میں ہوں کیا میں زندہ لاشوں کے استھان میں ہوں رات ڈھلے ویرانی ملنے آتی ہے جانتی ہے میں اس کے عقد امان میں ہوں سرد ہوائیں یاد اس کی بپھرا موسم وحشت زیست بتا میں کس کے دھیان میں ہوں پھر سرسبز ہوئے جاتے ہیں سارے پیڑ لگتا ہے اک میں ہی نمک کی کان میں ...