قومی زبان

گھپ خاموشی جیسے قبرستان میں ہوں

گھپ خاموشی جیسے قبرستان میں ہوں کیا میں زندہ لاشوں کے استھان میں ہوں رات ڈھلے ویرانی ملنے آتی ہے جانتی ہے میں اس کے عقد امان میں ہوں سرد ہوائیں یاد اس کی بپھرا موسم وحشت‌ زیست بتا میں کس کے دھیان میں ہوں پھر سرسبز ہوئے جاتے ہیں سارے پیڑ لگتا ہے اک میں ہی نمک کی کان میں ...

مزید پڑھیے

پہلے مجھ پر بہت فدا ہونا

پہلے مجھ پر بہت فدا ہونا اس کی چاہت کا پھر فنا ہونا یہ بھی بخیے ادھیڑ دیتی ہے اس کو ہلکا نہ لے ہوا ہونا خود کو محروم روشنی رکھ کر کتنا مشکل ہے اک دیا ہونا اس سہولت سے زندگی کاٹی مجھ کو آیا نہ پارسا ہونا تو مری مشکلات کیا سمجھے تجھ کو آتا ہے بس خدا ہونا میری ترتیب سے رہی ...

مزید پڑھیے

روشنی کی اشد ضرورت ہے

روشنی کی اشد ضرورت ہے آپ کے پاس تھوڑی فرصت ہے آپ سے جھوٹ کہہ رہا تھا کوئی زندگی ڈھیر خوب صورت ہے ایک دوجے کو کھو دیا ہم نے اور یہ عجلت نہیں حماقت ہے اس کے میرے وصال میں حائل اور کچھ بھی نہیں ہے غربت ہے آپ جیسے سخن نگاروں کو آئنہ دیکھنے کی حاجت ہے اور کچھ ہو نہ ہو تمہارے پاس ایک ...

مزید پڑھیے

گویا کہ چھنی پیروں کے نیچے کی زمیں ہے

گویا کہ چھنی پیروں کے نیچے کی زمیں ہے کیا پاس ترے جھوٹی تسلی بھی نہیں ہے ہم نے تو اسے کر ہی دیا دل سے بہت دور پر اس کا خیال اس کی محبت تو یہیں ہے معلوم ہے یا رب ہے تو شہ رگ سے قریں تر وہ شخص مگر جو مری دھڑکن کے قریں ہے ہیں آپ ہی کیوں حالت افسوس کی جا پر کیا ہوگی انعمؔ آپ کی جب اپنی ...

مزید پڑھیے

آتے ہیں کتنے خواب ترے روز و شب مجھے

آتے ہیں کتنے خواب ترے روز و شب مجھے وحشت سی ہونے لگتی ہے کوئی عجب مجھے تم کو میں گر قبول ہوں ایسے ہی ٹھیک ہوں آتا نہیں سنورنے کا کوئی بھی ڈھب مجھے ظالم ہے بادشہ کہ ہے سب پہ فرات بند محسوس ہو رہے ہیں سبھی سوکھے لب مجھے بس کچھ دنوں کی بات ہے میں لوٹ آؤں گی ہرگز صدا نہ دے کوئی پیچھے ...

مزید پڑھیے

ہماری موت کا واحد ہے یہ گواہ بدن

ہماری موت کا واحد ہے یہ گواہ بدن نہیں ہے روح پہ کوئی بھی زخم گاہ بدن ہماری آنکھ سے ظاہر ہو روشنی کیسے ہمارے سامنے رکھا گیا سیاہ بدن جو گونگے لوگوں کی بستی میں کوئی نام لیا سنائی دینے لگے مجھ کو بے پناہ بدن ہماری روح پہ نشتر چبھے اداسی کے ہزار آہوں پہ ماتم کدہ ہے آہ بدن اسے مرے ...

مزید پڑھیے

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے خود کو سمیٹنے میں بکھرنا پڑا مجھے پھر خواہشوں کو کوئی سرائے نہ مل سکی اک اور رات خود میں ٹھہرنا پڑا مجھے محفوظ خامشی کی پناہوں میں تھا مگر گونجی اک ایسی چیخ کہ ڈرنا پڑا مجھے اس بار راہ عشق کچھ اتنی طویل تھی اس کے بدن سے ہو کے گزرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے ہم نے اب اس کا سایہ دیوار کر لیا ہے جاتی تھی میرے دل سے جو تیرے آستاں تک دنیا نے اس گلی میں بازار کر لیا ہے دے داد آ کے باہر شہ رگ سے خوں ہمارا اس نے جو اپنا چہرہ گلنار کر لیا ہے بس چشم خوں فشاں کو ملتے نہیں ہیں آنسو ورنہ ترا مرکب تیار کر لیا ...

مزید پڑھیے

یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا

یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا میرا ہونا مرے ہونے میں اضافی ٹھہرا جرم آدم تری پاداش تھی دنیا ساری آخرش ہر کوئی حق دار معافی ٹھہرا یہ ہے تفصیل کہ یک لمحۂ حیرت تھا کوئی مختصر یہ کہ مری عمر کو کافی ٹھہرا کچھ عیاں ہو نہ سکا تھا تری آنکھوں جیسا وہ بدن ہو کے برہنہ بھی غلافی ...

مزید پڑھیے

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم نہر رواں کو پیاس کا منظر لکھیں گے ہم یہ سارہ شہر اعلیٰ حکمت لکھے اسے خنجر اگر ہے کوئی تو خنجر لکھیں گے ہم اب تم سپاس نامۂ شمشیر لکھ چکے اب داستان لاشۂ بے سر لکھیں گے ہم رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5194 سے 6203