روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں
روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں اس دل کے راستے میں کئی خم ملے ہمیں لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول حسن ہو کارزار عشق تو پرچم ملے ہمیں آئے اک ایسا زخم جو بھرنا نہ ہو کبھی یعنی ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہمیں دن میں جہاں سراب ملے تھے ہمیں وہاں آئی جو رات قطرۂ شبنم ملے ہمیں تم جیسے ...