قومی زبان

بات کی بات سے ڈر لگتا ہے

بات کی بات سے ڈر لگتا ہے اس مساوات سے ڈر لگتا ہے تم کوئی بات سمجھتے ہی نہیں بس اسی بات سے ڈر لگتا ہے جس میں کوئی نہ ملے اپنے سوا اس ملاقات سے ڈر لگتا ہے دل بضد ہے کہ وہی بات کہو سب کو جس بات سے ڈر لگتا ہے راز کی بات تو کوئی بھی نہیں عرض‌ حالات سے ڈر لگتا ہے جن میں گرمی نہ اجالے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو نہ آزما ستم روزگار سے

مجھ کو نہ آزما ستم روزگار سے میں تجھ سے دور ہوں نہ ترے اختیار سے بدلیں گے اہل دل نہ کسی اعتبار سے سرکار دشمنی سے نوازیں کہ پیار سے یہ کیا کہ صرف رنگ گلستاں بدل دیا ہم نے کچھ اور بھی تو کہا تھا بہار سے یا رب یہ کس نہج پہ ہیں دل کے معاملات ہم غیر مطمئن سے نہ وہ بیقرار سے آخر خود ...

مزید پڑھیے

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو آدمی بھی وہ نہیں ہے تو خدا کیسے ہو عشق کو حوصلۂ ترک وفا کیسے ہو لفظ معنی کی صداقت سے جدا کیسے ہو میں تو پوچھوں گا کہ تم سب کے خدا کیسے ہو میری آواز فرشتوں کی صدا کیسے ہو ایک غم ہو تو بکھر جائے مرے چہرے پر غیر محدود مصائب ہیں ضیا کیسے ہو سوچنے ...

مزید پڑھیے

اسی چمن میں مرا نظم آشیاں بدلا

اسی چمن میں مرا نظم آشیاں بدلا یہی زمیں ہے جہاں مجھ پہ آسماں بدلا نظام برق و نشیمن سے ہر سماں بدلا مگر یہ دیکھ کبھی رنگ باغباں بدلا کہیں چمن پہ نہ ٹوٹے کوئی بلا صیاد یہ انقلاب مبارک کہ آشیاں بدلا خدا کرے کہ خلاف وفا نہ ہو انجام مجھے خبر ہے جس امید پر جہاں بدلا تری نظر کے اشارے ...

مزید پڑھیے

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے وہ بچھڑا کب ہے تجھ میں کھو گیا ہے وہی اک شخص جو کچھ بھی نہیں تھا مجھے اپنا کے سب کچھ ہو گیا ہے چھٹا تو کیا ہے تیرے غم کا بادل برس کر اور گہرا ہو گیا ہے محبت میں تو راتیں جاگتی ہیں کوئی کچھ سوچ کر ہی سو گیا ہے وہ اتنے سنگ دل پہلے کہاں تھے مرا ملنا قیامت ...

مزید پڑھیے

عشق چھپتا نہیں چھپانے سے

عشق چھپتا نہیں چھپانے سے فائدہ کیا نظر بچانے سے جب قفس میں چراغ جلتے ہیں لو نکلتی ہے آشیانے سے ترک امید اک بہانہ تھا کر چکے یہ بھی سو بہانے سے ہوشیار اے نگاہ وقت نواز رخ بدلتے ہوئے زمانے سے حاصل ذکر ہو تمہی لیکن ابتدا ہے مرے فسانے سے جاگنا تھا ہمیں بہ کار حیات سوئے ہیں موت کے ...

مزید پڑھیے

چوٹ کھا کر جو مسکراتے ہیں

چوٹ کھا کر جو مسکراتے ہیں ہر بلا سے نجات پاتے ہیں تیرے بندے خدا نہیں بنتے دوسروں کو خدا بناتے ہیں موت سے جو وفا نہیں کرتے زندگی سے شکست کھاتے ہیں وہ حریف نظر کبھی نہ ہوئے آئنے ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں ہم کسی کا گلا نہیں کرتے وقت کی آبرو بڑھاتے ہیں حادثوں سے فرار کیا معنی حادثے ...

مزید پڑھیے

دوستوں کو مری ضرورت ہے

دوستوں کو مری ضرورت ہے قدر دانی نہیں یہ قیمت ہے آدمی بار آدمیت ہے حادثے کی اشد ضرورت ہے ان کے لب ہیں مری شکایت ہے کتنا بدلا ہے وقت حیرت ہے دو دلوں کے ملاپ کی خواہش پہلے خواہش تھی اب ندامت ہے میں جہاں ہوں کفیل ہوں اپنا تم جہاں ہو مری ضرورت ہے آدمیت کا ارتقا میں ہوں آدمی سے مجھے ...

مزید پڑھیے

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے محبت خون کا رشتہ نہیں ہے جو میں نے کہہ دیا ہو کر رہے گا مرا مشرب غم فردا نہیں ہے بہت پہلے میں اس کو پڑھ چکا ہوں میری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے گھٹا رہتا ہے دل میں کچھ دھواں سا یہ بادل آج تک برسا نہیں ہے جوانی جتنے منہ اتنی ہی باتیں محبت آج بھی رسوا ...

مزید پڑھیے

پھونک دو میرے آشیانے کو

پھونک دو میرے آشیانے کو روشنی تو ملے زمانے کو ہم تو بھٹکے قدم قدم لیکن راستہ دے دیا زمانے کو لوگ کیوں ایک دوسرے سے ملیں سن رہے ہیں مرے فسانے کو اتنے ٹھہراؤ سے نہ دیکھ مجھے رخ بدلنا پڑے زمانے کو مصلحت ساز رو بھی لیتے ہیں وقت کے ساتھ مسکرانے کو اپنی تصویر سامنے رکھ کر دیکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5160 سے 6203