قومی زبان

اس کا چہرہ طاری ہے

اس کا چہرہ طاری ہے چاہت اک بیماری ہے آنکھوں سے دل تک پہنچا بندے کی ہشیاری ہے بیٹی گھر کے آنگن میں خوشیوں کی پھلواری ہے نیکی کرکے ڈھول بجا یہ ہی دنیا داری ہے راتوں کو تارے گننا عشق عجب بے گاری ہے کوئی ساتھ نہیں دے گا مطلب کی بس یاری ہے میرے دل پر اس کا حق اچھی یہ سرداری ہے

مزید پڑھیے

ایک سانچے میں ڈھال رکھا ہے

ایک سانچے میں ڈھال رکھا ہے ہم نے دل کو سنبھال رکھا ہے تیری دنیا کی بھیڑ میں مولیٰ خود ہی اپنا خیال رکھا ہے درد اب آنکھ تک نہیں آتا درد کو دل میں پال رکھا ہے چل کے الفت کی راہ میں دیکھا ہر قدم پر وبال رکھا ہے

مزید پڑھیے

رنگ خوشیوں کے کل بدلتے ہی

رنگ خوشیوں کے کل بدلتے ہی غم نے تھاما مجھے پھسلتے ہی میں جو لکھتی تھی خواب سورج کے ڈھل گئی ہوں میں شام ڈھلتے ہی راہ سچ کی بہت ہی مشکل ہے پاؤں تھکنے لگے ہیں چلتے ہی وہ محبت پہ خاک ڈال گیا بجھ گیا اک چراغ جلتے ہی خواب نازک ہیں کانچ کے جیسے ٹوٹ جاتے ہیں آنکھ ملتے ہی

مزید پڑھیے

کتھئی شام

ایک کتھئی شام ہواؤں میں عطر گھول گیا کوئی لکھنے خوابوں کو پلکیں جو موندیں کہ کاجل لگا گیا کوئی صبح ہنستی تھی اور رات بھی تھی گنگناتی پر اف اس کی وہ ظالم ادا بے وجہ مسکرانے کا سبب دے گیا کوئی منزل تھی دور اور نہ تھا کوئی ہم سفر ایسی سنسان راہوں میں مجھ سے میری پہچان کرا گیا ...

مزید پڑھیے

میری خود غرضی

بڑا معصوم ہے وہ کہتا ہے ہر منکے کے ساتھ مانگتے ہو میری ہی سلامتی کی دعا رب سے کبھی اپنے لیے بھی کچھ مانگ لو بہت سنتا ہے وہ تمہاری وہ معصوم کیا جانے میری خود غرضی

مزید پڑھیے

میری سلطنت

توڑ کر ہزار ٹکڑوں میں مجھے بیٹھے ہو کب سے مجھ پر نظریں گڑائے کہ اب بکھروں اور تب بکھروں توڑنا تمہاری سرحد میں تھا اور بکھرنا میری ہر جگہ تمہاری حکمت نہیں ہے میری جان

مزید پڑھیے

میری خوش فہمی

مکمل تھی زندگی تھے راستے خوش نما نہ تھی منزل کی پرواہ چن لی اپنی مرضی کی ڈگر اور میں ہی میرا ہم سفر خود کی صحبت سے بہتر بھلا اور کون نہ کوئی اختلاف ہر حال میں رضا جہاں میں لے چلوں خود کو بس مزا ہی مزہ نہ سمے کی کمی نہ کسی کا انتظار جہاں جی چاہا ڈال دیا پڑاؤ منزل وہیں جہاں رک گئے ...

مزید پڑھیے

شرارتی چاند

بڑا شرارتی ہے یہ چاند بھی جلانا ستانا ترسانا شوق ہیں اس کے اور لکا چھپی اس کی فطرت اس پر حماقت یہ کہ نگل جاتا ہے کبھی کبھی سورج کو بھی غنیمت ہے جو آسمان میں ٹھکانا ہے اس کا محفوظ ہے وہاں جو زمیں پر ہوتا تو کس کس سے مناتا اپنی خیر

مزید پڑھیے

لمحوں کی نیلامی

ہاتھوں میں جام اور ہوش کی بات کریں ارے کچھ تو ہوش کی بات کر ساقی پیمانہ بھی نہ چھلکے اور سرور چڑھے اپنی آنکھوں سے کچھ تو کام لے ساقی پہرہ نقاب کا اور یہ تیری بے باکی دونوں میں کوئی تو اتفاق رکھ ساقی کب سے بیٹھے ہیں لٹانے یہ دل و جاں اپنی اداؤں کو اب تو انجام دے ساقی صبح کر ...

مزید پڑھیے

قیمت

جانے کیا بات تھی اس خریدار کی بولی میں وہ بھاؤ بڑھاتا گیا اور ہم بیش قیمتی ہو گئے

مزید پڑھیے
صفحہ 5157 سے 6203