ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں
ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں نہ کوئی زائچہ کھینچیں نہ استخارہ کریں اسی سے لفظ بنے ماں بھی ایک ہے جن میں تو کیسے حرف کی بے حرمتی گوارہ کریں اسی شرر کو جو اک عہد یاس نے بخشا کبھی دیا کبھی جگنو کبھی ستارہ کریں شعور شعر نے وہ آنکھ کھول دی دل میں کہ اب تو ہم پس امکان بھی نظارہ ...