قومی زبان

ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں

ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں نہ کوئی زائچہ کھینچیں نہ استخارہ کریں اسی سے لفظ بنے ماں بھی ایک ہے جن میں تو کیسے حرف کی بے حرمتی گوارہ کریں اسی شرر کو جو اک عہد یاس نے بخشا کبھی دیا کبھی جگنو کبھی ستارہ کریں شعور شعر نے وہ آنکھ کھول دی دل میں کہ اب تو ہم پس امکان بھی نظارہ ...

مزید پڑھیے

بدل چکے ہیں سب اگلی روایتوں کے نصاب

بدل چکے ہیں سب اگلی روایتوں کے نصاب جو تھے ثواب و گنہ ہو گئے گناہ و ثواب نمو کے باب میں وہ بے بسی کا عالم ہے بہار مانگ رہی ہے خزاں رتوں سے گلاب بدل کے جام بھی ہم تو رہے خسارے میں ہمارے پاس لہو تھا تمہارے پاس شراب مرے کہے کو امانت سمجھنا موج ہوا میں آنے والے زمانوں سے کر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

پلکوں تک آ کے اشک کا سیلاب رہ گیا

پلکوں تک آ کے اشک کا سیلاب رہ گیا دریا درون حلقۂ گرداب رہ گیا یہ کون ہے کہ جس کو ابھارے ہوئے ہے موج وہ شخص کون تھا جو تہہ آب رہ گیا نخل انا میں زور نمو کس غضب کا تھا یہ پیڑ تو خزاں میں بھی شاداب رہ گیا کیا شہر پر کھلی ہی نہیں آیت خلوص کیا ایک میں ہی واقف آداب رہ گیا کچھ ذکر یار جس ...

مزید پڑھیے

کتاب عشق کے جو معتبر رسالے ہیں

کتاب عشق کے جو معتبر رسالے ہیں انہیں میں حسن کے کچھ مستند حوالے ہیں بہ زعم جبر تصرف میں جن کے دنیا تھی وہ آج رحم کی تختی گلے میں ڈالے ہیں نہ جانے کون سی آفت کا پیش خیمہ ہے یہ برگ سبز ہواؤں نے کیوں اچھالے ہیں خبر اڑاؤ کہ پیشانیٔ سیاست پر ہم اپنے فاقوں کی تفصیل لکھنے والے ...

مزید پڑھیے

لہجے کی اداسی کم ہوگی باتوں میں کھنک آ جائے گی

لہجے کی اداسی کم ہوگی باتوں میں کھنک آ جائے گی دو روز ہمارے ساتھ رہو چہرے پہ چمک آ جائے گی یہ چاند ستاروں کی محفل معلوم نہیں کب روشن ہو تم پاس رہو تم ساتھ رہو جذبوں میں کسک آ جائے گی کچھ دیر میں بادل برسیں گے کچھ دیر میں ساون جھومیں گے تم زلف یوں ہی لہرائے رہو موسم میں سنک آ جائے ...

مزید پڑھیے

محبت کے سفر کی داستاں ہے

محبت کے سفر کی داستاں ہے تو میری جان ہے میرا جہاں ہے سجی ہونٹوں پہ ہے مسکان لیکن میرا غم میری آنکھوں میں نہاں ہے ستاتا ہے تجھے جو ہجر کا غم وہ میری زندگی میں بھی رواں ہے سفر میں ساتھ میرے تم ہو جاناں مرے قدموں کے نیچے آسماں ہے لبوں سے کچھ نہیں کہتا کبھی وہ نگاہوں سے مگر سب کچھ ...

مزید پڑھیے

زیست کو یوں بھی رائیگاں رکھا

زیست کو یوں بھی رائیگاں رکھا درد کا دل میں کارواں رکھا تیری چاہت کو مار کر ٹھوکر خود سے بھی واسطہ کہاں رکھا اک معمہ بنا کے لفظوں سے تم نے سب کچھ دھواں دھواں رکھا بارہا ٹھوکریں ملی اس کو ہم نے دل کو جہاں جہاں رکھا

مزید پڑھیے

وہ جو دنیا سے گزر جاتے ہیں

وہ جو دنیا سے گزر جاتے ہیں کوئی بتلائے کدھر جاتے ہیں زندگی روز ہی دھمکاتی ہے روز ہی موت سے ڈر جاتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں وہ پنجرے کو کھلا اور پنکھوں کو کتر جاتے ہیں ہم کو جینے نہیں دے گی دنیا ہم چلو ساتھ میں مر جاتے ہیں لوگ چلتے ہیں زمانے کی طرف ہم جدھر گھر ہے ادھر جاتے ہیں

مزید پڑھیے

فاصلہ بیچ کا مٹا کیسے

فاصلہ بیچ کا مٹا کیسے یاد اس نے مجھے کیا کیسے اپنی پلکوں میں قید رکھا تھا راج دل کا مرے کھلا کیسے جسم کے پیرہن کے پار پہنچ اس نے احساس کو چھوا کیسے جنم دے کر میں گھونٹ دوں بولو اپنی امید کا گلا کیسے موت جس روز میرے دل کو ملی بھول جاؤں وہ حادثہ کیسے جو تیرے نام روح بھی کر دی اب ...

مزید پڑھیے

بول دیتی ہے بے زبانی بھی

بول دیتی ہے بے زبانی بھی خاموشی کے کئی معانی بھی وقت بے وقت ہی نکل آئے ہے عجب آنکھ کا یہ پانی بھی وہ سبب ہے میری اداسی کا اس سے ہے دوستی پرانی بھی وہ مراسم بڑھا کے چھوڑ گیا درد ہوتا ہے جاودانی بھی آج پھر قیس کو ہی مرنا پڑا ہو گئی ختم یہ کہانی بھی

مزید پڑھیے
صفحہ 5156 سے 6203