قومی زبان

کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے گزرے ہیں

کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے گزرے ہیں تری تلاش میں ہم لا مکاں سے گزرے ہیں جنون شوق میں دیکھو کہاں سے گزرے ہیں کہ دشت سے تو کبھی کہکشاں سے گزرے ہیں نہ پوچھ ہم سے تو اب تو ہماری حالت کو ترے فراق میں درد و فغاں سے گزرے ہیں وہ مرحلے بھی ہیں گزرے یوں خستہ حالوں پر بہاروں سے نہ کبھی ہم ...

مزید پڑھیے

جو آہ ادھر نکلی وہ پہنچی ہے ادھر کیا

جو آہ ادھر نکلی وہ پہنچی ہے ادھر کیا پتھر کے کلیجے پہ بھی ہوتا ہے اثر کیا اک ساتھ نہ کشتہ کرے جو دل کو جگر کو ابرو کی کماں کیسی ہے وہ تیر نظر کیا تھا دہر میں آباد کبھی اپنا چمن بھی اس اجڑے چمن کو بھلا اب خوف شرر کیا چبھتا ہے اجالا سا جو اب میری نظر میں اس تیرہ شبی کی کبھی ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی دشوار ہوگی یہ کبھی سوچا نہ تھا

زندگی دشوار ہوگی یہ کبھی سوچا نہ تھا وہ بگولے غم کے اٹھے جن کا اندیشہ نہ تھا سامنے تم آ گئے ہو تو بتا دوں جان جاں جیسے دل دھڑکا تھا اب کہ ویسے دل دھڑکا نہ تھا یہ ارادہ کر لیا تھا ہم نہ بچھڑیں گے کبھی ٹوٹیں گے اک پل میں رشتے یہ کبھی سوچا نہ تھا یاد ماضی مٹ رہی ہے وقت کی رفتار سے اب ...

مزید پڑھیے

مصیبت آئی ہے تو پھر مصیبت سے نہ گھبرانا (ردیف .. ہ)

مصیبت آئی ہے تو پھر مصیبت سے نہ گھبرانا دیے کا کام ہے آخر سویرے تک جلے جانا گزاری ہجر کی راتیں تمہاری یاد میں اکثر کبھی جو ملنے آ جاؤ بہل جائے گا دیوانہ نہیں ہے رشک مجھ کو تو حویلی اور دولت کا میں مٹی کا ہوں پیکر اور اسی میں مجھ کو مل جانا جنوں میں رقص کرتے ہی فنا ہو جائے گا ...

مزید پڑھیے

نا آشنا گر مجھ سے مرے یار نہ ہوتے

نا آشنا گر مجھ سے مرے یار نہ ہوتے حالات سے ہم ایسے تو بیزار نہ ہوتے اس طرح مجھے آپ نے چھوڑا نہیں ہوتا دامن میں مرے پھول تھے یہ خار نہ ہوتے ہوتے نہ زلیخا سے خریدار تو شاید یوسف کے لئے مصر کے بازار نہ ہوتے کر دیتا اگر ہم پہ عنایت کی نظر تو پھر تیری نظر کے ہی طلب گار نہ ہوتے کھلتے ...

مزید پڑھیے

اپنے بدن کی آگ میں جلنا پڑا مجھے

اپنے بدن کی آگ میں جلنا پڑا مجھے پھر یہ ہوا کہ راکھ میں ڈھلنا پڑا مجھے آسان اتنی ہوتی نہیں راہ عشق کی پھولوں کے ساتھ کانٹوں پہ چلنا پڑا مجھے سورج غموں کا سر پہ رہا ہے تمام عمر اور قطرے قطرے روز پگھلنا پڑا مجھے میں جانتا تھا دکھ بہت ہوگا مجھے مگر اس کی گلی سے ہو کے نکلنا پڑا ...

مزید پڑھیے

اس بیقرار دل کو مرے تو قرار دے

اس بیقرار دل کو مرے تو قرار دے اجڑی ہوئی خزاں میں تو فصل بہار دے پہنچی ہے میری پیاس کی شدت عروج پر للہ میرے لب پہ تو کوثر اتار دے ہو جاؤں میں وجود سے وابستہ اس قدر تیری خوشی میں غم میں خدا اختیار دے بکھری ہوئی حیات ہے اپنی بھی اے صنم آکر مری حیات کو اب تو سنوار دے ہنس کر کے ٹال ...

مزید پڑھیے

عجب مشکل کہ دل کا حال ایسا ہو گیا ہے

عجب مشکل کہ دل کا حال ایسا ہو گیا ہے سبھی اب پوچھتے ہیں مجھ سے یہ کیا ہو گیا ہے میں یہ سمجھا کہ غم کا اب مداوا ہو گیا ہے کریدا زخم تو یہ اور تازہ ہو گیا ہے کبھی فرصت ملے تو خود سے میں باتیں کروں گا مجھے خود سے ملے بھی تو زمانہ ہو گیا ہے مگر اب سوچتا ہوں توڑ دوں سارے مراسم مگر دل ...

مزید پڑھیے

جہاں سینوں میں دل شانوں پہ سر آباد ہوتے ہیں

جہاں سینوں میں دل شانوں پہ سر آباد ہوتے ہیں وہی دو چار تو بستی میں گھر آباد ہوتے ہیں بہت ثابت قدم نکلیں گئے وقتوں کی تہذیبیں کہ اب ان کے حوالوں سے کھنڈر آباد ہوتے ہیں بزرگوں کو تبرک کی طرح رکھو مکانوں میں بلائیں رد کئے جانے سے گھر آباد ہوتے ہیں زباں بندی کے موسم میں گلی کوچوں ...

مزید پڑھیے

کہو کیا مہرباں نا مہرباں تقدیر ہوتی ہے

کہو کیا مہرباں نا مہرباں تقدیر ہوتی ہے کہا ماں کی دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے کہو کیا بات کرتی ہے کبھی صحرا کی خاموشی کہا اس خامشی میں بھی تو اک تقریر ہوتی ہے کہا میں نے کہ رنج بے مکانی کب ستاتا ہے کہا جب مقبرے یا قصر کی تعمیر ہوتی ہے کہا میں نے حصار ذات میں یہ نفس کی دنیا جواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5152 سے 6203