کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے گزرے ہیں
کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے گزرے ہیں تری تلاش میں ہم لا مکاں سے گزرے ہیں جنون شوق میں دیکھو کہاں سے گزرے ہیں کہ دشت سے تو کبھی کہکشاں سے گزرے ہیں نہ پوچھ ہم سے تو اب تو ہماری حالت کو ترے فراق میں درد و فغاں سے گزرے ہیں وہ مرحلے بھی ہیں گزرے یوں خستہ حالوں پر بہاروں سے نہ کبھی ہم ...