قومی زبان

فریب ذات کے دل کش بتوں کو کس نے یوں توڑا

فریب ذات کے دل کش بتوں کو کس نے یوں توڑا ہمیں تھے جس نے ہستی کے حقائق سے نہ منہ موڑا در حسرت یہ کیا تکتا ہے اے دل نو بہ نو جلوے کسی کی سرفرازی دیکھ کر کریے نہ دل تھوڑا یہ غم کیا کم ہے اے ہمدم کہ بستی کے غزالوں کو ابھی دشت تغافل کی تمنا نے نہیں چھوڑا نئی دیوار اٹھا کر ہم یہ سمجھے دل ...

مزید پڑھیے

چمن چمن میں ہیں برپا یہ کیسے ہنگامے

چمن چمن میں ہیں برپا یہ کیسے ہنگامے کلی کے تتلی کے بھونروں کے گل کے ہنگامے ہزار رنگ کے پھولوں سے باغ کی زینت بہار آئی تو لائی ہے اتنے ہنگامے مری خموشی کے معنی کچھ اور ہی سمجھے اسی لئے تو اٹھائے ہیں اتنے ہنگامے وہ راہ بھول چکے تھے میں بچ کے کیا کرتی مری گلی میں مگر کس قدر تھے ...

مزید پڑھیے

جہان رنگ و بو میں تھی یہ ویرانی مگر کب تک

جہان رنگ و بو میں تھی یہ ویرانی مگر کب تک ہمارے پیار کی خوشبو نہ پہنچی تھی یہاں جب تک تمہاری مصلحت کوشی کو ہے میرا سلام اے دل انہیں چاہا انہیں پوجا مگر دیکھا کہاں اب تک ازل کی پیاس ہونٹوں پر لیے پھرتا رہا ناداں اٹھایا جام کتنوں نے زبس پہنچا کسی لب تک چلو اچھا ہوا تم نے تو سارے ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرا احتساب کیا ہوگا

بروز حشر مرا احتساب کیا ہوگا کہ اس زمیں کے سوا اور عذاب کیا ہوگا مدام فکر میں بے عقل کا تسلسل کار کتاب زیست کا آئندہ باب کیا ہوگا جواں دلوں میں فقط نفرتیں ہی ملتی ہیں زیادہ اس سے کوئی انقلاب کیا ہوگا عطا کیا مہ کامل کو عشرتوں کا غرور اندھیری رات سے بڑھ کر عذاب کیا ہوگا طلسم ...

مزید پڑھیے

وہ یقیں پھر کسی چہرے پہ نظر آئے گا

وہ یقیں پھر کسی چہرے پہ نظر آئے گا جو مرے خواب کی تعبیر سنا جائے گا جھیل سی آنکھوں میں کھل جائیں امیدوں کے کنول جن سے یہ مہر جہاں تاب بھی شرمائے گا پھر لکھی جائے گی ان چاند سے چہروں کی کتاب وقت صفحات پلٹتا ہوا رہ جائے گا درد کی شب ہے گزر جائے گی پل دو پل میں اک ستارہ سر مژگاں جو ...

مزید پڑھیے

گر یہ ہمت ہے کہ طوفان کی زد پر رہیے

گر یہ ہمت ہے کہ طوفان کی زد پر رہیے ناخداؤں کے کمالات سے بچ کر رہیے گھر ہے شیشہ کا تو اس دور میں جینے کے لئے سنگ ریزوں کی قبا اوڑھ کے در پر رہیے دور بہتی ہوئی آکاش کی گنگا سے پرے آسماں ڈھونڈ نہ پائیں یوں سمٹ کر رہیے یہ خبر ہے کہ کوئی برق گرے گی مجھ پر یہ خبر سچ ہے تو پھر آج کے دن ...

مزید پڑھیے

شکست زنداں کا خواب

شکست زنداں کا خواب میں نے کبھی نہ دیکھا کہ سچ یہی ہے جو بیڑیاں پاؤں میں پڑی ہیں وہی اثاثہ ہے زندگی کا وہیں سے میرے شعور نے پائیں آگہی کی نئی ترنگیں وہیں سے اظہار کے وسیلے وہیں سے فن کے نئے تقاضے وہیں سے جینے کے حوصلے بھی وہیں سے رندی کے ولولے بھی ہر ایک آہٹ پہ سانحہ اک نیا گزرتا ہے ...

مزید پڑھیے

اعتراف

اے دل زندہ سچ بتا کہ تجھے آخرش انتظار کس کا ہے کون سی صبح تیری نظروں میں ہو سکی صبح انتخاب کبھی کون سا لمحہ تیرے آنگن میں لمحۂ جاوداں نظر آیا کس کرن نے ترے لہو کو چنا کب ہوا نے تراش لیں راہیں کن نگاہوں نے تجھ کو پرکھا ہے کن صلیبوں نے تیرا قد ناپا کب ترا نغمہ جان محفل تھا کب ترے ...

مزید پڑھیے

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا وہ میرے بعد مری زندگی میں آئے گا یہاں کی بات الگ ہے جہان دیگر سے میں کیسے آؤں گا مجھ کو اگر بلائے گا مجھے ہنسی بھی مرے حال پر نہیں آتی وہ خود بھی روئے گا اوروں کو بھی رلائے گا بچھڑ کے اس کو گئے آج تیسرا دن ہے اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا فقیہ شہر ...

مزید پڑھیے

گھر میں مٹی کا دیا موجود ہے

گھر میں مٹی کا دیا موجود ہے روشنی سے رابطہ موجود ہے چاہئے بینائی سننے کے لیے بعض رنگوں میں صدا موجود ہے کب سے اڑتا ہے غبارہ ارض کا اس میں اب کتنی ہوا موجود ہے گو بہت محدود ہے جنس وفا پھر بھی میرے بے وفا! موجود ہے عمر بھر جنگل میں رہ سکتا ہوں میں اس میں گھر جیسی فضا موجود ہے ذکر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5142 سے 6203