قومی زبان

بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں

بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں تتلی کے پیچھے جاتی تھی بادل کے گاؤں میں گرمی کی تیز دھوپ میں پیپل کی چھاؤں میں سونیؔ بڑا سکون تھا چھوٹے سے گاؤں میں منزل کی آرزو بھلا کرتے بھی کس طرح کانٹے چبھے ہوئے تھے ہمارے تو پاؤں میں جب دھوپ کے سفر سے وہ آئے گا لوٹ کر اس کو بٹھا کے رکھوں ...

مزید پڑھیے

زمانہ سنگ ہے فریاد آئینہ میری

زمانہ سنگ ہے فریاد آئینہ میری غلط کہوں تو زباں چھین لے خدا میری ترا قصور ہے اس میں نہ ہے خطا میری تری زمیں پہ جو برسی نہیں گھٹا میری جہاں سے ترک تعلق کیا تھا تو نے کبھی کھڑی ہوئی ہے اسی موڑ پر وفا میری تم اس لباس دریدہ پہ طنز کرتے ہو اسی لباس میں محفوظ ہے حیا میری اس اک خیال سے ...

مزید پڑھیے

ایک سودا ہے لذت غم ہے

ایک سودا ہے لذت غم ہے آج پھر میری آنکھ پر نم ہے دل کو بہلا رہے ہیں مدت سے زندگی کیا عذاب سے کم ہے ذرہ ذرہ اداس ہے اس کا میرے گھر کا عجیب عالم ہے مہر و مہ پر کمند پڑتی ہے سوچ میں کوئی ابن آدم ہے تجھ سے پردہ نہیں مرے غم کا تو مری زندگی کا محرم ہے یہ جو اک اعتبار ہے تم پر کس قدر ...

مزید پڑھیے

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا سحر دم دامن دل بھر رہے گا علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا ہوا مشکل ترے عاشق کا جینا ترے کوچے میں آ کر مر رہے گا دل وحشی نے کب آرام پایا ستم کی آگ میں جل کر رہے گا حیات جاوداں ہو یا کہ دنیا ترا بندہ ترے در پر رہے گا نہ ہو ...

مزید پڑھیے

میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے

میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے بھول جاتے ہیں ترے چاہنے والے تجھ کو اس قدر سخت یہ ہستی کا سفر ہوتا ہے اب نہ وہ جوش وفا ہے نہ وہ انداز طلب اب بھی لیکن ترے کوچے سے گزر ہوتا ہے دل میں ارمان تھے کیا عہد بہاراں کے لئے چاک گل دیکھ کے اب چاک جگر ...

مزید پڑھیے

وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا

وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا تو اپنے ہی جلووں میں گھرا آئے گا تا حشر یوں ہی منتظر دید رہوں چپکے سے کبھی آ کے بتا، آئے گا میں نامۂ اعمال کھلا رکھوں گا رحمت کو تری جوش سوا آئے گا حسرت گہ عالم میں تمنا کا قدم الا کی طرف صورت لا آئے گا خالی بھی تو کر خانۂ دل دنیا سے اس گھر میں مری جان ...

مزید پڑھیے

فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی

فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی غلط ہے جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی کہاں ...

مزید پڑھیے

ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا

ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا زندگی ایک تماشا ہے تو دیکھا ہوتا دیکھتے گر ہمیں عالم کو بہ انداز دگر اور ہی دشت جنوں میں دل رسوا ہوتا کیا کیا اہل محبت نے مگر تیرے لیے ہم نے اک صحن‌ چمن اور بھی ڈھونڈا ہوتا تم بھی ہوتے مے و نغمہ بھی دل شیدا بھی اور ایسے میں اگر ابر برستا ...

مزید پڑھیے

عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں

عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

میرا ماضی مرے چہرے سے جھلکتا ہے ضرور

میرا ماضی مرے چہرے سے جھلکتا ہے ضرور مجھ کو حالات کی گرمی کی شکایت نہ غرور مصلحت جان کے کانٹوں کی قبا لائے تھے گل کی رنگین قبائی کو پرکھنا تھا ضرور کون سے بھیس میں مل جائیں فرشتے ہمدم خدمت انس و بشر اپنا فریضہ ہے حضور وقت کے ساتھ بدلنے لگا احساس کا رنگ مجھ کو اس بات کا پہلے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5141 سے 6203