قومی زبان

ان کہے لفظوں میں مطلب ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں

ان کہے لفظوں میں مطلب ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں کیا کہا تھا اس نے اور کیا سوچتا رہتا ہوں میں یوں ہی شاید مل سکے ہونے نہ ہونے کا سراغ اب مسلسل خود کے اندر جھانکتا رہتا ہوں میں موت کے کالے سمندر میں ابھرتے ڈوبتے برف کے تودے کی صورت ڈولتا رہتا ہوں میں ان فضاؤں میں امڈتی پھیلتی خوشبو ...

مزید پڑھیے

کبھی سوئے منزل جو ہم دیکھتے ہیں

کبھی سوئے منزل جو ہم دیکھتے ہیں تمہارے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں تری آنکھ میں اپنا غم دیکھتے ہیں زمانے میں ایسا تو کم دیکھتے ہیں بھری بزم میں آج اک دوسرے کو نہ تم دیکھتے ہو نہ ہم دیکھتے ہیں بڑے لوگ کرتے ہیں جو کارنامے انہیں پتھروں کے صنم دیکھتے ہیں جواں عزم رکھتے ہیں راہ وفا ...

مزید پڑھیے

تری تلاش نے رکھا ہے در بدر مجھ کو

تری تلاش نے رکھا ہے در بدر مجھ کو ترے سوا نہیں آتا کوئی نظر مجھ کو میں ڈوب جاتا ہوں جب بھی ترے تصور میں جہاں کی پھر نہیں رہتی ہے کچھ خبر مجھ کو تو ہم قدم تھا مرا زندگی کی راہوں میں کٹھن لگا ہی نہیں تھا کبھی سفر مجھ کو نظر اٹھے ہے جدھر بھی دیار الفت میں ترا ہی جلوہ نظر آئے ہے ادھر ...

مزید پڑھیے

کسی کی تم دل آزاری نہ کرنا

کسی کی تم دل آزاری نہ کرنا محبت میں اداکاری نہ کرنا مری فطرت وفا پر جان دینا ترا شیوہ وفاداری نہ کرنا اگر اندر ہی اندر مر چکے ہو تو جینے کی اداکاری نہ کرنا نبھانے کے لئے ہوتے نہیں یہ کوئی وعدہ بھی سرکاری نہ کرنا فقیروں کی حکومت ہے دلوں پر کبھی ہم پر تو سرداری نہ کرنا

مزید پڑھیے

روتے روتے اوس بولی میرا چہرہ دیکھ کر

روتے روتے اوس بولی میرا چہرہ دیکھ کر تم بتاؤ کیا ملا ہے خواب اس کا دیکھ کر اک شکاری کا وہ بچہ ہائے وہ ننھا سا پھول میں قفس میں لوٹ آیا دشت سارا دیکھ کر انتہائی دھوپ سے بھی اک قدم آگے کی دھوپ آہ یہ بھی بجھ رہی ہے میرا سایا دیکھ کر ٹھہرنا تو ذات کا تھا اس پہ یہ بے چین جسم چاند تارے ...

مزید پڑھیے

وہ میری ذات کے اندر دکھائی دیتا ہے

وہ میری ذات کے اندر دکھائی دیتا ہے یہ مجھ کو خواب میں اکثر دکھائی دیتا ہے وہاں سے ہو کے تری زندگی میں آؤں گا جہاں سے موت کا منظر دکھائی دیتا ہے مرے وجود سے دریا کا عکس دیکھو گے کہیں کہیں تو سمندر دکھائی دیتا ہے دھڑکتے دل کو تم آب رواں سمجھتے رہو مجھے تو قید میں پتھر دکھائی ...

مزید پڑھیے

رشتوں کو جب دھوپ دکھائی جاتی ہے

رشتوں کو جب دھوپ دکھائی جاتی ہے سگریٹ سے سگریٹ سلگائی جاتی ہے جسم ہمارا اک ایسی مل ہے جس میں اندھیاروں سے دھوپ بنائی جاتی ہے نا سے اس کی شکل ملانے لگتا ہوں جب اس کی آواز سنائی جاتی ہے کیا وہ پنے سچ مچ کورے ہوتے ہیں جن پر کوئی ضرب لگائی جاتی ہے بلے بابا دیوانوں کو سمجھاؤ اپنی ...

مزید پڑھیے

دشت میں آگ لگانے کے لئے پانی ہے

دشت میں آگ لگانے کے لئے پانی ہے تو مری پیاس بڑھانے کے لئے پانی ہے مجھ کو اک عہد کی میت پہ گھڑا پھوڑنا ہے سو مرے پاس زمانے کے لئے پانی ہے تیری تصویر بنانے میں لہو سوکھ گیا تیری تصویر مٹانے کے لئے پانی ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ انسانی بدن ہے مٹی سو اسے تاب میں لانے کے لئے پانی ہے تیری ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ آسماں اترا زمیں کے اس طرف

رفتہ رفتہ آسماں اترا زمیں کے اس طرف میں نے بویا تھا کبھی سبزہ زمیں کے اس طرف اس زمیں پر پیاس کی شدت ہوئی تھی کب عیاں کس نے سوچا تھا نہاں دریا زمیں کے اس طرف آسماں کے رنگ سارے حیرتوں کے عکس ہیں وہ ہے اک چہرہ پس پردہ زمیں کے اس طرف میرے ہونے کا گماں اس بھیڑ میں ہے مبتلا اور میں ...

مزید پڑھیے

جو چند سکوں کی چاہ میں کیں وہ ہجرتیں کیا شمار کرنا

جو چند سکوں کی چاہ میں کیں وہ ہجرتیں کیا شمار کرنا سفر میں اپنوں سے دوریوں کی اذیتیں کیا شمار کرنا جو میرے دل کی اجاڑ بستی میں ایک موسم ٹھہر گیا ہے بلا سے آئے بہار یا پھر خزاں رتیں کیا شمار کرنا جو روشنی کا نگر کبھی تھا وہ آج اندھیروں میں گم ہوا ہے اجاڑ اندھیری اداس ویراں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5124 سے 6203