میں تجھ پر منکشف ہو جاؤں یہ مجھ پر گراں ہے
میں تجھ پر منکشف ہو جاؤں یہ مجھ پر گراں ہے خسارہ سا خسارہ تا بہ امکاں سب زیاں ہے یہ چشم نم کی خونابہ فشانی تھم رہے تو کھلے اشکوں کی طغیانی کا سر چشمہ کہاں ہے چراغ ایسے تہ فرش زمیں رکھے گئے تھے فلک کی مانگ میں اک جھلملاتی کہکشاں ہے تری آنکھوں سے لے کر ہے شکم تک بھوک رقصاں تو پھر ...