قومی زبان

نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت

نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت کہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت بنا ہوں وہ میں ناتوانی کی صورت غضب ہی کھچی بے نشانی کی صورت خموشی جو ہے اقتضائے طبیعت تو ان کو ملی بے دہانی کی صورت نظر آئے کیا جلوۂ حسن باقی کہ پردہ ہے دنیائے فانی کی صورت تم اور ذکر اغیار پر چپ رہو گے کہے دیتی ہے ...

مزید پڑھیے

ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا

ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا ہے مرے زخم جگر میں کاٹ تیغ یار کا شور ہے غل ہے جہاں میں مردن دشوار کا ایک چلتا وار ہے ہیں تیغ نگاہ یار کا نغمہ دل کش ہے دشمن عندلیب زار کا ہے قفس میں بند ہونا کھولنا منقار کا مست کچھ ایسا ہوں چشم نیم مست یار کا ظرف خالی جانتا ہوں ساغر سرشار ...

مزید پڑھیے

اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے

اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے خامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکے کہتے ہیں تم وصال کی تدبیر کر چکے گویا ہمارے حق میں وہ تقدیر کر چکے تدبیر کو حوالۂ تقدیر کر چکے ہم بے زباں بھی یار سے تقریر کر چکے دل خار خار خندۂ چشم اثر ہے اب دل گرم صرف نالۂ شب گیر کر چکے مرتا ہوں یوں کہ بستۂ ...

مزید پڑھیے

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا فانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھا شب کو بغل میں تھا بھی تو وہ دلستاں نہ تھا شوخی یہ کہہ رہی تھی کہ یاں تھا وہاں نہ تھا بے وجہ منہ چھپانے سے جو تھا نہاں نہ تھا پر خیر تھی کچھ اس میں کہ میں بد گمان نہ تھا یہ تو نہیں کہ اب کے وہ مطلق وہاں نہ تھا لیکن ...

مزید پڑھیے

ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں

ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں آگ دل میں دبائے بیٹھے ہیں وہ جو گردن جھکائے بیٹھے ہیں حشر کیا کیا اٹھائے بیٹھے ہیں تیرے کوچے کے بیٹھنے والے اپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں زور بل اف رے اس نزاکت پر خلق کا دل دکھائے بیٹھے ہیں کیوں اٹھیں ان کی بزم سے اغیار رنگ اپنا جمائے بیٹھے ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی دھیان میں وہ کمر نہیں آتی مانگتا ہوں مگر نہیں آتی یہ اجل وقت پر نہیں آتی تیرے کشتوں کا روز حشر حساب غیرت او فتنہ گر نہیں آتی طبع اپنی بھی ایک آندھی ہے خاک اڑانی مگر نہیں آتی ابر کس کس طرح برستا ہے شرم اے چشم تر نہیں آتی تم تو یوں محو ظلم ہو کہ ...

مزید پڑھیے

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے اگر سچ ہے حسینوں میں تلون تو ہے امید وصل ان کی نہیں سے کہاں کی دل لگی کیسی محبت مجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے ادھر لاؤ ذرا دست حنائی پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے جنوں میں ...

مزید پڑھیے

خدا بھی میری طرح با کمال ایسا تھا

خدا بھی میری طرح با کمال ایسا تھا تراشا اس کو جو میرے خیال ایسا تھا ہر ایک لمحہ یہی ڈر تھا کھو نہ جائے کہیں رہا وہ پاس مگر احتمال ایسا تھا تھا تتلیوں کے پروں سا لطیف اس کا بدن جو تاب لمس نہ رکھے جمال ایسا تھا پگھلتی چاندی تھا نصف النہار پر جب تھا بکھرتا سونا تھا سورج زوال ایسا ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں

جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں پرائی آگ میں کیوں انگلیاں جلاؤں میں وہ اب کے جائے تو پھر لوٹ کر نہ آئے کبھی بھلائے ایسے کہ پھر یاد بھی نہ آؤں میں سکھی رہے وہ سدا اپنے گھر کے آنگن میں اس اک دعا کے لئے ہاتھ اب اٹھاؤں میں نئی رتوں کے جھمیلے ہوں اس کا زاد سفر شکست عرض تمنا پہ ...

مزید پڑھیے

شہر در شہر فضاؤں میں دھواں ہے اب کے

شہر در شہر فضاؤں میں دھواں ہے اب کے کس سے کہیے کہ قیامت کا سماں ہے اب کے آنکھ رکھتا ہے تو پھر دیکھ یہ سہمے چہرے کان رکھتا ہے تو سن کتنی فغاں ہے اب کے چند کلیوں کے چٹکنے کا نہیں نام بہار قافلہ کل کا چلا تھا تو کہاں ہے اب کے تھی مگر اتنی نہ تھی کور زمانے کی نظر ایک قاتل پہ مسیحا کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5123 سے 6203