نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت
نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت کہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت بنا ہوں وہ میں ناتوانی کی صورت غضب ہی کھچی بے نشانی کی صورت خموشی جو ہے اقتضائے طبیعت تو ان کو ملی بے دہانی کی صورت نظر آئے کیا جلوۂ حسن باقی کہ پردہ ہے دنیائے فانی کی صورت تم اور ذکر اغیار پر چپ رہو گے کہے دیتی ہے ...