میری بستی میں جو سورج کبھی اترا ہوتا
میری بستی میں جو سورج کبھی اترا ہوتا میں بدن ہوتا ترا تو مرا سایہ ہوتا کس کی بے مہر ادا سے ہمیں شکوہ ہوتا ہم کسی کے نہ ہوئے کون ہمارا ہوتا جان پر کھیل کے میں راہ وفا طے کرتا اس کی جانب سے مگر کچھ تو اشارہ ہوتا دل کا احسان ہے جو بجھ گیا خود ہی ورنہ جانے میں کس کو کہاں ڈھونڈنے نکلا ...