کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا
کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا یہ میرا حوصلہ تھا کہ لب وا نہیں کیا وہ کم نگاہ تھا مگر اس سے چرا کے آنکھ میں نے بھی اپنے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا تجدید ارتباط بھی ممکن تھی بعد میں میں نے ہی اس روش کو گوارا نہیں کیا پہلے تو اک جنون سا عرض طلب کا تھا جب وہ ملا تو دل نے تقاضہ نہیں ...