قومی زبان

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا یہ میرا حوصلہ تھا کہ لب وا نہیں کیا وہ کم نگاہ تھا مگر اس سے چرا کے آنکھ میں نے بھی اپنے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا تجدید ارتباط بھی ممکن تھی بعد میں میں نے ہی اس روش کو گوارا نہیں کیا پہلے تو اک جنون سا عرض طلب کا تھا جب وہ ملا تو دل نے تقاضہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی صدا نہ دور تلک نقش پا کوئی

کوئی صدا نہ دور تلک نقش پا کوئی وہ موڑ ہے کہ ملتا نہیں راستا کوئی ہاں دل کی دھڑکنوں سے صدا چھین لو مگر چپ چاپ ہی جو آ کے یہاں بس گیا کوئی مانا کہ تیرے در پہ جھکیں آ کے منزلیں پر ہم سا بھی ملا تجھے سچ سچ بتا، کوئی دل کی زباں بہت ہے کوئی ہو جو اہل دل ہونٹوں سے کیا بتائے بھلا مدعا ...

مزید پڑھیے

چپ بیٹھا میں کیا کیا سوچتا رہتا ہوں

چپ بیٹھا میں کیا کیا سوچتا رہتا ہوں آخر میں کیوں اتنا تنہا تنہا ہوں پہروں جن کی جھیل میں کھویا رہتا ہوں ان آنکھوں کی یاد میں ڈوبا رہتا ہوں تم جو باتیں بھول چکے ہو مدت سے میں تو ان میں اب بھی الجھا رہتا ہوں تم بدلو تو بدلو اپنی راہ مگر میں تو ایک ڈگر پر چلتا رہتا ہوں سادہ پن کچھ ...

مزید پڑھیے

محو زاری تو رکھا دل کی لگی نے شب بھر

محو زاری تو رکھا دل کی لگی نے شب بھر لیکن آنسو بھی جو پونچھے تو اسی نے شب بھر یہ مرے دل کی چمک ہے کہ تری آنکھ کا نور ذہن میں ناچتے رہتے ہیں نگینے شب بھر روحیں دم ساز ہیں تو جسم بھی ہم راز بنیں یوں تو تڑپیں گے یہ جلتے ہوئے سینے شب بھر اجنبی جان کے ڈرتے رہے سب دروازے میری آواز نہ ...

مزید پڑھیے

شکایتوں میں بھی اس کو عجب مزا آیا

شکایتوں میں بھی اس کو عجب مزا آیا کہ بد گماں تھا مگر دور تک چلا آیا قدم قدم پہ فصیلیں حریف تھیں لیکن میں سخت جان تھا ان کو پھلانگتا آیا ادھر ادھر نئی گلیوں میں جا نکلتا تھا بہت دنوں میں مجھے گھر کا راستہ آیا سنبھال رکھی تھی میں نے حضور برسوں سے متاع دل تھی سو یاروں میں بانٹتا ...

مزید پڑھیے

چاند تارے جسے ہر شب دیکھیں

چاند تارے جسے ہر شب دیکھیں ہم بھی اس شوخ کو یا رب دیکھیں یوں ملیں ان سے کہ اپنا چہرہ وہ بھی حیران ہوں کل جب دیکھیں پہلے بس دل کو خبر تھی دل کی اب وفا عام ہوئی سب دیکھیں قرب میں کیا ہے جو دوری میں نہیں تم جو آؤ تو کسی شب دیکھیں جی میں ہے پھر کریں اظہار وفا پھر ترے لرزے ہوئے لب ...

مزید پڑھیے

تو چاند ہے تو چاند نگر مجھ سے چھین لے

تو چاند ہے تو چاند نگر مجھ سے چھین لے میں کیا کروں گا خاک بسر مجھ سے چھین لے اب تیری بے رخی کا بھی آتا ہے یوں خیال جیسے کوئی متاع دگر مجھ سے چھین لے تو خود ہی اپنی طرز ستم پر نگاہ رکھ میں کیا کہوں یہ درد جگر مجھ سے چھین لے ڈستے رہیں گے ذہن کو کب تک مشاہدات یا رب یہ امتیاز نظر مجھ ...

مزید پڑھیے

کینچلی بدلتی رات

پائیں باغ میں چاند اترا اور چندن مہکا رات کی سانول ڈالی سے اک نرم گلابی ناگن لپٹی چاروں اور میں ریشم نرم ہوا کا جنگل دود گلابی ہریل مخمل حوض کنارا سیمیں پانی جھل جھل کرتا جسم اس پر ایک سیاہ طلسم دور محل کی کھڑکی میں وہ دہکا اک انگارا صبح کے مقتل میں اک کوندا سجل لہو کا دھارا سیج ...

مزید پڑھیے

مسیحا فریسی زمانہ

مسیحا کہ جس کے دہن میں زباں ہی نہیں تھی بھلا کیسے اندھوں کو تبلیغ کرتا کہ آیت بصارت کی محتاج ہے فریسی کہ سامع تھے بینا نہیں تھے بھلا کس طرح سے اشارہ سمجھتے سماعت کا ہیکل آواز آواز بت کدہ ہے زمانہ کہ بینا بھی اور ناطق بھی ہے یہ سب کچھ کہاں مانتا ہے صلیبیں بنانے کا فن جانتا ہے

مزید پڑھیے

اداسی ایک لڑکی ہے

دسمبر کی گھنی راتوں میں جب بادل برستا ہے لرزتی خامشی جب بال کھولے کاریڈوروں میں سسکتی ہے تو آتش دان کے آگے کہیں سے وہ دبے پاؤں مرے پہلو میں آتی ہے اور اپنے مرمریں ہاتھوں سے میرے بال سلجھاتے ہوئے سرگوشیوں میں درد کے قصے سناتی ہے جولائی کی دوپہریں ممٹیوں سے جب اتر کر آنگنوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5118 سے 6203