قومی زبان

اپنے گھر سے تو چلا تھا میں شکایت لے کر

اپنے گھر سے تو چلا تھا میں شکایت لے کر اس کے گھر پہنچا مگر اس کی محبت لے کر ایک احساس جنوں مجھ کو لئے جاتا ہے لوٹ آئے گا نئی پھر کوئی وحشت لے کر ہجر کہتے ہیں کسے یہ مجھے معلوم نہیں کیا کروں گا میں تجھے اے شب فرقت لے کر دل میں رہتا ہے کوئی جذبۂ صادق کی طرح کوئی آئے تو دکھاوے کی ...

مزید پڑھیے

یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے

یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے انسان کا انسان گلا کاٹ رہا ہے دیکھو نہ ہمیں آج حقارت کہ نظر سے یارو کبھی اپنا بھی بڑا ٹھاٹ رہا ہے پہلے بھی میسر نہ تھا مزدور کو چھپر اب نام پہ دیوار کے اک ٹاٹ رہا ہے دیکھا ہے جسے آپ نے نفرت کی نظر سے نفرت کی خلیجوں کو وہی پاٹ رہا ہے حیران ہوں کیا ہو ...

مزید پڑھیے

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر میں اپنی ذات کا حصہ جسے سمجھتا ہوں مرے خدا کی ہے بخشش وہ آگہی کا ...

مزید پڑھیے

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے اے مرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر ہم نے مانا چاند سا روشن ترا محبوب ہے تو ...

مزید پڑھیے

بڑے سکون سے خود اپنے ہم سروں میں رہے

بڑے سکون سے خود اپنے ہم سروں میں رہے جب آئنہ صفت انسان پتھروں میں رہے بھلا وہ کیسے جرائم کے ہاتھ کاٹیں گے جو سہمے سمٹے سے خود اپنے بستروں میں رہے نفس نفس تھا بکھرنے کا سلسلہ جاری برائے نام ہی محفوظ ہم گھروں میں رہے ہماری نکتہ رسی اس قدر گراں گزری کہ بن کے خار ہمیشہ نظر وروں میں ...

مزید پڑھیے

احساس کی رگوں میں اترنے لگا ہے وہ

احساس کی رگوں میں اترنے لگا ہے وہ اب بوند بوند مجھ میں بکھرنے لگا ہے وہ گمنامیوں کی اندھی گپھائیں ہوں نوحہ خواں مانند آفتاب ابھرنے لگا ہے وہ کیسے کہوں کہ غم ہوا خوابوں کی بھیڑ میں زخموں کا اندمال تو کرنے لگا ہے وہ اک حرف آتشیں بھی نہیں اس کے ہونٹ پر لگتا ہے لحظہ لحظہ ٹھٹھرنے ...

مزید پڑھیے

محفوظ رہے گا کیا احساس کا آئینہ

محفوظ رہے گا کیا احساس کا آئینہ پتھر کے مقابل ہے الماس کا آئینہ اب چہرۂ ماضی بھی پہچانا نہیں جاتا یوں ٹوٹ کے بکھرا ہے اتہاس کا آئینہ مفہوم تو مبنی ہے قاری کی بصیرت پر الفاظ سے روشن ہے قرطاس کا آئینہ اس عہد میں رشتوں کی بے رنگ دکانوں میں ہیرے سے بھی مہنگا ہے وشواس کا آئینہ اس ...

مزید پڑھیے

مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا

مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا زہر ہی زہر مرے جسم کے اندر پھیلا سبز موسم میں بھی ہو جس کی شباہت پیلی اس چمن میں کہیں شعلے کہیں پتھر پھیلا خوفناکی اثر انداز ہوا کرتی ہے اس کو اخبار کی مانند نہ گھر گھر پھیلا ہو یہ ممکن تو مرے جسم کے اندر بھی اتر ریزہ ریزہ مجھے ہر سمت ...

مزید پڑھیے

خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہوگا

خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہوگا شب کی اک ایک اذیت سے گزرنا ہوگا وہ ہمارے ہی رگ و پے میں نہاں رہتا ہے اس کی تصدیق تو اک دن ہمیں کرنا ہوگا اپنے خاکستر تن کو لئے کوچہ کوچہ کیا ہواؤں کی طرح مجھ کو گزرنا ہوگا ہمیں احباب کی بے لوث رفاقت کے سبب وقت آئے گا تو بے موت بھی مرنا ...

مزید پڑھیے

گم کر دیں اک ذرا تجھے خوابوں کے شہر میں

گم کر دیں اک ذرا تجھے خوابوں کے شہر میں نکتے کچھ ایسے ڈھونڈ کتابوں کے شہر میں دیوانگی کی ایسی ملے گی کہاں مثال کانٹے خریدتا ہوں گلابوں کے شہر میں آئینے بولتے ہیں تو یہ بھی بتائیں گے کیا بے حجاب ہوں میں حجابوں کے شہر میں ناکامیوں کی آگ میں تپتی ہیں خواہشیں جلتی ہے میری روح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5116 سے 6203