قومی زبان

نہ آئے لب پہ تو کاغذ پہ لکھ دیا جائے

نہ آئے لب پہ تو کاغذ پہ لکھ دیا جائے کسی خیال کو مایوس کیوں کیا جائے کسی پہ مٹنے مٹانے سے فائدہ کیا ہے مزہ تو جب ہے کسی کے لئے جیا جائے وہ دیکھتا ہے وضاحت طلب نگاہوں سے میں چاہتا ہوں اشارہ سمجھ لیا جائے یہ سوچ کر کہ اکیلے سفر پہ جانا ہے یہ چاہتا ہوں سفر ملتوی کیا جائے نظر بچائے ...

مزید پڑھیے

اکثر یہ حالت ہوتی ہے

اکثر یہ حالت ہوتی ہے ایک گھڑی مدت ہوتی ہے ہم کیسے زندہ ہیں اب تک ہم کو بھی حیرت ہوتی ہے یار گلہ کرتے رہتے ہیں یاروں کی عادت ہوتی ہے کیسی رسمیں کیسی شرطیں چاہت تو چاہت ہوتی ہے دل اوروں کا ہو جاتا ہے دل کی یہ فطرت ہوتی ہے وصل کے لمحوں نے سمجھایا دنیا بھی جنت ہوتی ہے ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اب دل کو انتظار ترے فیصلے کا ہے

اب دل کو انتظار ترے فیصلے کا ہے اور تجھ میں عیب دیر تلک سوچنے کا ہے کوئی نہیں سنے گا برائی شراب کی ہر شخص اس دیار میں عادی نشے کا ہے اب سنگ باریوں کا عمل سرد پڑ گیا اب اس طرف بھی رنج مرے ٹوٹنے کا ہے یہ سارے لوگ خود تو ہیں جیسے کوئی کمان جو تیر چل رہا ہے کسی دوسرے کا ہے چہرے کا خول ...

مزید پڑھیے

کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا

کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا دل خراب پائمال یک بہ یک نہیں ہوا بکھر گئے تھے ٹوٹ کر مگر ہم اس کے بعد ہی کچھ اس طرح سنبھل گئے کسی کو شک نہیں ہوا بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا ستم گروں سے دوستی چلی تمام زندگی ستم زدوں پہ مہرباں مگر ...

مزید پڑھیے

احساس میں شدت ہے وہی کم نہیں ہوتی

احساس میں شدت ہے وہی کم نہیں ہوتی اک عمر ہوئی دل کی لگی کم نہیں ہوتی لگتا ہے کہیں پیار میں تھوڑی سی کمی تھی اور پیار میں تھوڑا سی کمی نہیں ہوتی اکثر یہ مرا ذہن بھی تھک جاتا ہے لیکن رفتار خیالوں کی کبھی کم نہیں ہوتی تھا زہر کو ہونٹوں سے لگانا ہی مناسب ورنہ یہ مری تشنہ لبی کم نہیں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں تاروں کی کہانی لکھی

چاندنی رات میں تاروں کی کہانی لکھی جلوۂ جاناں کی ہر ایک نشانی لکھی ہو کے حاصل نہ ہوئی ایسی سیانی لکھی تم کو اک حاجت ناکام زبانی لکھی میں نے ہر وقت نیا درد سہیجا دل میں اس نے افسوس مری بات پرانی لکھی سامنے آ گیا دنیا کے محبت کا بھرم بات جب نکلی تو اپنی ہی جوانی لکھی نرم و نازک ...

مزید پڑھیے

تمہارے درد کے جیسا نہیں ہے

تمہارے درد کے جیسا نہیں ہے ہمارے درد کا چہرہ نہیں ہے اگرچہ عشق سا مہنگا نہیں ہے مگر یہ ہجر بھی سستا نہیں ہے ہماری آنکھ سے دیکھو تو جانو مطابق عشق کے دنیا نہیں ہے چلو اب ڈھونڈھا جائے پھر نیا غم کہ کاغذ پہ کوئی مصرع نہیں ہے ذرا نشتر چبھاؤ زور سے پھر یہ زخم دل ابھی گہرا نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں تیری دید کے منظر لیے ہوئے

آنکھوں میں تیری دید کے منظر لیے ہوئے پھرتے ہیں سر پہ بوریا بستر لیے ہوئے پہلی نظر نے آپ کی بسمل کیا ہمیں ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے کیسے کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں رگ رگ میں دوڑتی پھرے نشتر لیے ہوئے اے آرزوئے دشت کہیں تو قیام کر کیوں پھر رہی ہے خوابوں کا لشکر لیے ...

مزید پڑھیے

کل تک جو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا

کل تک جو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا اک ہی تو میرا یار تھا وہ بھی نہیں رہا تھوڑا بہت جو پیار تھا وہ بھی نہیں رہا اک شخص بے قرار تھا وہ بھی نہیں رہا جینے کی ایک امید تھی وہ بھی نہیں رہی جس درد سے قرار تھا وہ بھی نہیں رہا ایسی چلی ہوائیں کہ سب کچھ بکھر گیا اک پیڑ سایہ دار تھا وہ بھی ...

مزید پڑھیے

ریت سا دن ہے رات مٹھی بھر

ریت سا دن ہے رات مٹھی بھر آدمی کی بساط مٹھی بھر رب کی کوزہ گری کا افسوں ہے ہم سبھی کی حیات مٹھی بھر ایک مشت غبار ہے ہستی اور یہ کائنات مٹھی بھر حد سے بے حد خدا کی رحمت ہے اور اپنی زکوٰۃ مٹھی بھر سارے دن کی تھکن کے بدلے میں ہاتھ آئی ہے رات مٹھی بھر لوگ کہتے ہیں زندگی جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5072 سے 6203