قومی زبان

کبھی جو ختم نہ ہو ایسی تازگی دے دی

کبھی جو ختم نہ ہو ایسی تازگی دے دی تری وفا نے نئی مجھ کو زندگی دے دی ہمارے پاس تھا کیا اور متاع دل کے سوا ترے سوال پہ وہ بھی خوشی خوشی دے دی وہ شخص کون تھا جس کے خلوص پیہم نے مری حیات کو سورج سی روشنی دے دی عجیب بات ہے جس نے حیات مانگی تھی اسے تو موت ملی مجھ کو زندگی دے دی میں ...

مزید پڑھیے

نظم

نہ تو ہیر نہ میں رانجھا نہ میں مجنوں نہ تو لیلیٰ پھر ہم سچ کیوں بولیں کیا تم نے سچی باتیں کہنے والوں کو سکھی دیکھا ہے میں نے تو ان کو جنم جنم سے دکھی دیکھا ہے

مزید پڑھیے

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا اتروں گا آفاق سے جب میں دھرتی پر بھر لوں گا دامن میں سونا مٹی کا اک دن مٹی اوڑھ کے مجھ کو سونا ہے کیا غم جو ہے آج بچھونا مٹی کا اونچا اڑنے کی خواہش میں تم عارفؔ ماؤں جیسا پیار نہ کھونا مٹی کا

مزید پڑھیے

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی تو پھر یہ جان کہ تو نے پیمبری کر لی تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر ترے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی پہنچ گیا ہوں میں منزل پہ گردش دوراں ٹھہر بھی جا کہ بہت تو نے رہبری کر لی جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی مرے کسانوں نے شہروں ...

مزید پڑھیے

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے تجھے تیری مجھے میری ضرورت کھینچ لاتی ہے چھپا ہے جو خزانہ تہہ میں ان بنجر زمینوں کی اسے باہر زمیں سے میری محنت کھینچ لاتی ہے میں ماضی کو بھلا کر اپنے مستقبل میں زندہ ہوں نگاہوں سے ہے جو اوجھل بشارت کھینچ لاتی ہے مرا دشمن مری آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں

جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں میں کائنات سے پردہ اٹھا بھی سکتا ہوں مرے بزرگوں نے بخشی ہے اک دعا ایسی بچھڑ گئے ہیں جو ان کو ملا بھی سکتا ہوں نہ کوئی زائچہ کھینچوں نہ دیکھوں ہاتھ ترا میں تیرے بارے میں سب کچھ بتا بھی سکتا ہوں بس ایک رات میں سجدے میں گر کے رویا تھا اب آسماں ...

مزید پڑھیے

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن جاتا میں شاعر تھا میں نے سب سے پیار کیا اس کی آنکھیں خواب سے ...

مزید پڑھیے

تیرے غم کو اپنی راتوں کا مقدر کر لیا

تیرے غم کو اپنی راتوں کا مقدر کر لیا جاگنا تھا اس لئے کانٹوں پہ بستر کر لیا جس کو چاہا بس اسی کا راستہ تکتے رہے پتھروں کی جستجو میں خود کو پتھر کر لیا ہائے وہ احساس حرف آرزو کہنے کے بعد یوں لگا تھا جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہم تو ماضی کو اساس زندگی کہتے رہے اور اس نے اپنے مستقبل ...

مزید پڑھیے

ہر ایک کی ہر پسند ٹھہرے ہر ایک کا انتخاب نکلے

ہر ایک کی ہر پسند ٹھہرے ہر ایک کا انتخاب نکلے ہمی کو اچھا بتایا سب نے ہمی زیادہ خراب نکلے سوال تھا اس طرف انا کا وقار کا مسئلہ ادھر تھا نہ در پہ خانہ خراب پہنچے نہ گھر سے عالی جناب نکلے کئی اداؤں نے گدگدایا کئی نگاہوں نے دستکیں دیں یہ واقعے دل نشیں بہت تھے مگر حقیقت میں خواب ...

مزید پڑھیے

ترا دھیان آتا رہا دیر تک

ترا دھیان آتا رہا دیر تک میں خود کو بھی اچھا لگا دیر تک ہر اک بات سے لا تعلق رہا سنی میں نے اپنی صدا دیر تک مسافر ترا ذکر کرتے رہے مہکتا رہا راستہ دیر تک وہی ساری باتیں وہی سب خیال چلا رات بھی سلسلہ دیر تک نوازے گئے کچھ بھلے آدمی سبھا میں تماشا ہوا دیر تک توجہ کے طالب تھے منظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5071 سے 6203