قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے
قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے ہر باغ میں پھولوں کی فطرت میں رعونت ہے سمجھا دو فرشتوں کو کس کی مجھے حسرت ہے ہوں جس کا تمنائی نام اس کا محبت ہے اس درجہ محبت ہے اک دوجے سے دونوں کو میں اس کی ضرورت ہوں وہ میری ضرورت ہے یہ کس کی اطاعت میں دل میرا دکھا بیٹھے تصویر میں جا بیٹھے ...