قومی زبان

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا زبانیں دشمنوں کی تھیں مگر افسانہ میرا تھا تڑپتا ہوں کہ اک ساغر کسی حاتم سے مل جائے زوال آسماں دیکھو کبھی مے خانہ میرا تھا بلا کی خامشی طاری تھی ہر سو تیری ہیبت سے سر محفل جو گونجا نعرۂ مستانہ میرا تھا کٹے یوں تو ہزاروں سر وفا کی کربلاؤں ...

مزید پڑھیے

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا اس کی گلی میں آنا جانا چھوڑ دیا منظر بھی سب بانجھ رتوں میں ڈوب گئے آنکھوں پر بھی پہرہ بٹھانا چھوڑ دیا ختم ہوئی شوریدہ سری لب سل سے گئے محفل محفل ہنسنا ہنسانا چھوڑ دیا نظروں پر کھڑکی کے پٹ دیوار کیے دروازوں میں اس کا سجانا چھوڑ دیا جب سے ہوا احساس ...

مزید پڑھیے

خدشہ

گپھاؤں جنگلوں سے دور ہم تہذیب کی دھن پر تمدن کی ردا اوڑھے سفر کرتے رہے ہیں ایک مدت سے مگر یہ اک حقیقت ہے کہ اس لمبے سفر کی ایک ساعت بھی ہمارے حق میں کچھ اچھی نہیں نکلی دریدہ ہو چکی اس درمیاں چادر تمدن کی گراں بار سماعت ہو گئی تہذیب کی ہر دھن اب ایسے میں زمیں کی شکل کو مد نظر ...

مزید پڑھیے

دھوپ چھانو کے درمیاں

یہ زندگی گلوں کی ایک سیج ہے نہ خار و خس کا ڈھیر ہے بس ایک امتحان کا لطیف سا سوال ہے سوال کا جواب تو محال ہے بس اتنا ہی سمجھ لیں ہم کہ زیست دھوپ چھانو ہے کہیں پہ یہ نشیب تو کہیں پہ یہ فراز ہے جہاں بٹھائے یہ ہمیں وہیں پہ ہم بساط ذات ڈال کر کرن کرن سے کچھ نہ کچھ حرارتیں نچوڑ لیں تمازتیں ...

مزید پڑھیے

نفی و اثبات

اس کا اقرار کر کے اسے ڈھونڈنے چل پڑا شہر میں دشت میں کوہ و دریا میں، میں مدتوں مارا مارا پھرا لیکن اس کا نشاں میری نظروں سے اوجھل تھا اوجھل رہا آخرش تھک کے جب سو گیا میں کسی موڑ پر تو مرے پردۂ خواب پر ایک تحریر مجھ سے مخاطب ہوئی اس طرح تیرا اقرار بالکل بجا ہے مگر یاد رکھ ایک انکار ...

مزید پڑھیے

سعیٔ رائیگاں

نڈھال ہو کر اداس لہجے میں چاند سورج یہ کہہ رہے تھے نہ جانے کب سے ہم اس جہاں میں اجالے برسا رہے ہیں لیکن فصیل ظلمت ہنوز قائم ہے اس زمیں پر پھر اس نتیجے پہ دونوں پہنچے کہ ذہن انساں کے طاق پر جب تلک نہ ہوگا چراغ روشن ہماری کوشش کا ماحصل تو صفر ہی ہوگا

مزید پڑھیے

مشورہ

چار دن کی چاندنی کے سلسلے میں مرا نوحہ سنتے سنتے چاند نے کل ڈوبنے سے قبل مجھ سے یہ کہا چشم تر کے جگنوؤں سے جو کرن بھی پھوٹ نکلے بس اسے ہی عصر نو کی تیرگی میں گھولنے کی ڈھونڈتے رہنا سبیل

مزید پڑھیے

نوائے وقت

پتنگ اڑانے میں گھر سے نکلا تو اک ضعیف آدمی نے ناراضگی کے لہجے میں مجھ کو ٹوکا کہ اس فضا میں نہ اڑ سکے گی پتنگ تیری ہر ایک جانب سیاہ بادل ہیں آسماں پر نہ جانے کب ایک تیز بارش کی زد میں آ کر پتنگ تیری جو بھیگ جائے تو ہو کے بے جان جسم اس کا زمیں پہ ٹپکے ذرا توقف کے بعد اس نے یہ رائے بھی ...

مزید پڑھیے

ذمہ داری

حصار تشکیک توڑ کر تم اٹھو زمیں سے فلک پہ پہنچو پھر اس جہاں پر نگاہ ڈالو خدا را اپنا مقام سمجھو شعور مخصوص جو ودیعت ہوا ہے تم کو ذرا تم اس سے جو کام لے لو تو شور شب خوں جو ہر طرف ہے یہ خود بہ خود ہی خموش ہوگا یہ العطش کی صدا جو ہر سمت اٹھ رہی ہے تم اس پہ لبیک کہہ کر اپنی فرات کا در خدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5046 سے 6203