قومی زبان

میں ہوں ایسے بکھرا سا

میں ہوں ایسے بکھرا سا جیسے خواب ادھورا سا دور دور تک پھیلا ہے یادوں کا اک صحرا سا بے شک آپ نہیں آتے کر دیتے کوئی وعدہ سا غم سے آنکھیں بوجھل ہیں دل بھی ہے کچھ بکھرا سا میں اس کی نظروں میں ہوں کاغذ کا اک ٹکڑا سا عقل و جنوں میں رہتا ہے کوئی نہ کوئی جھگڑا سا ان سے دل کی بات کہی بوجھ ہوا ...

مزید پڑھیے

یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے

یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے نظر کرتی ہے اظہار محبت یا زباں پہلے اگر ہو دیکھنا مقصود بربادی کا نظارہ جلا کر دیکھیے اک بار اپنا آشیاں پہلے پہنچ کر منزل ہستی پہ یہ احساس ہوتا ہے کہ گزرے ہیں یہاں سے اور بھی کچھ کارواں پہلے کئی معصوم کلیاں جو ابھی کھلنے نہ پائی ...

مزید پڑھیے

دل بے تاب کو بہلانے چلے آئے ہیں

دل بے تاب کو بہلانے چلے آئے ہیں ہم سر شام ہی مے خانے چلے آئے ہیں دل نے مشکل سے فراموش کیا تھا جن کو لب پہ پھر آج وہ افسانے چلے آئے ہیں بے بلائے تو یہاں رند نہ آتے ساقی یاد فرمایا ہے صہبا نے چلے آئے ہیں راہ مے خانہ سے غفلت میں گزر ہی جاتے دیکھ کر رقص میں پیمانے چلے آئے ہیں آج پینے ...

مزید پڑھیے

کشتئ دل نذر طوفاں ہو گئی

کشتئ دل نذر طوفاں ہو گئی ایک مشکل اور آساں ہو گئی صبح دم شبنم کو جانے کیا ہوا صحبت گل سے گریزاں ہو گئی اس نظر کی سادگی تو دیکھیے جو ترے جلووں پہ قرباں ہو گئی پھول کو حیرت زدہ سا دیکھ کر ہر کلی گلشن میں حیراں ہو گئی میرے پہلو سے وہ اٹھ کر کیا گئے دل کی دنیا سخت ویراں ہو گئی دل کی ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہائے بادہ و پیمانہ دیکھ کر

ہنگامہ ہائے بادہ و پیمانہ دیکھ کر ہم رک گئے ہیں راہ میں مے خانہ دیکھ کر با احترام ساغر و مینا بڑھا دیئے ساقی نے میری جرأت رندانہ دیکھ کر پھر یاد آ گئی ہے تری چشم مے فروش محفل میں رقص بادہ و پیمانہ دیکھ کر حیراں ہوں ان کے دیدۂ حیراں کو کیا کہوں دیوانے ہو گئے مجھے دیوانہ دیکھ ...

مزید پڑھیے

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا تمام رات ہوئیں دل پہ دستکیں کیا کیا نہ مٹ سکے کسی صورت بھی میرے دل کے شکوک تری نگاہ نے کی ہیں وضاحتیں کیا کیا یہ آرزو ہے کہ ان میں ہو کوئی تجھ جیسا نظر میں گھومتی رہتی صورتیں کیا کیا کسی کے طرز تغافل پہ کس لئے الزام مجھے تو خود سے رہی ...

مزید پڑھیے

بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر

بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر واقعات عمر رفتہ پر نظر ثانی نہ کر دل پہ جو گزری ہے اس پر اشک افشانی نہ کر زندگی کی انجمن میں مرثیہ خوانی نہ کر کیا ضروری ہے کہ یہ دکھ بانٹنے والے بھی ہوں ملنے والوں سے کبھی ذکر پریشانی نہ کر آرزوؤں کو نہ رکھ ہر چیز سے بڑھ کر عزیز تیز تر ...

مزید پڑھیے

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں جسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاں مثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیں اور دیکھو تو قریب رگ جاں رہتے ہیں ہر نفس کرتے ہیں اک طرفہ تماشا پیدا ہم سر دار بھی تزئیں جہاں رہتے ...

مزید پڑھیے

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے گر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھے تو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے خواب میں ہو تو یہ دل دیکھے تری دید کے خواب خواب سے جاگے تو اک خواب سی دنیا دیکھے جو سمجھتا ہے کہ کھل جاتا ہے فریاد سے بخت سوئے افلاک ...

مزید پڑھیے

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو جینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پر الطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو وہ گرم ہوائیں ہیں کہ کھلتی نہیں آنکھیں صحرا میں ہوں بادل کی ردا چاہئے مجھ کو لب سی کے مرے تو نے دیے فیصلے سارے اک بار تو بے درد سنا چاہئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5045 سے 6203