قومی زبان

ان کی فطرت اس کو کہئے یا کہ فطرت کا اصول

ان کی فطرت اس کو کہئے یا کہ فطرت کا اصول ڈوب جاتے ہیں ستارے اور بکھر جاتے ہیں پھول اک نظر کی کیا حقیقت ہے مگر اے دوستو عمر بھر کی موت بن جاتی ہے اک لمحے کی بھول ہم تو ہیں ان محفلوں کے آج تک مارے ہوئے جن میں نغموں کی ہے شورش جن میں زلفوں کی ہے دھول اور جو کچھ بھی ہے ان کے درمیاں وہ ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں لوگ غم سے ڈرتے ہیں

جانے کیوں لوگ غم سے ڈرتے ہیں ہم تو آلام میں نکھرتے ہیں جو خوشی کے سراب میں گم ہیں وہ خوشی سے ہی اپنی مرتے ہیں غم بھی رکھتے ہیں ساتھ خوشیوں کے زندگی میں جو رنگ بھرتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں سب غموں کے حصار موتی خوشیوں کے جب بکھرتے ہیں لاکھ خوشیاں انہیں مبارک ہوں ہم غموں سے ہی دل کو ...

مزید پڑھیے

کوئی ہمدم بنا کے دیکھو تم

کوئی ہمدم بنا کے دیکھو تم دل کی دنیا بسا کے دیکھو تم صبح نو پھر سے جاگ جائے گی شام غم کو سلا کے دیکھو تم بن ہی جائے گا وہ گہر اک دن کوئی پتھر اٹھا کے دیکھو تم ڈوب جاؤ گے میری چاہت میں مجھ سے نظریں ملا کے دیکھو تم مسکرانا ادا سہی پھر بھی لذت غم اٹھا کے دیکھو تم راہ الفت میں ہارنا ...

مزید پڑھیے

اک خاک زادہ چلنے لگا لا الہ کی سمت

اک خاک زادہ چلنے لگا لا الہ کی سمت یعنی کہ گامزن میں ہوا کربلا کی سمت مجھ کو کسی طبیب سے کوئی غرض نہیں بیمار پڑ کے آتا ہوں خاک شفا کی سمت جب منتظر تھے حر کے وہاں پر حسین خود کیسے فنا سے آتا نہ پھر حر بقا کی سمت کرب و بلا میں جاتا ہوں آنکھوں میں نم لیے نعرہ لگا کے جاتا ہوں مشکل کشا ...

مزید پڑھیے

یار الفت عذاب لگتی ہے

یار الفت عذاب لگتی ہے اب محبت عذاب لگتی ہے دوست دشمن نما جو ہوتے ہیں ان سے رغبت عذاب لگتی ہے اک شکایت سی جیسے گھر میں گئی اب شکایت عذاب لگتی ہے پہلے پہلے تو اس کے خواہاں تھے اب یہ شہرت عذاب لگتی ہے پوری کر کر ضرورتیں گھر کی ہر ضرورت عذاب لگتی ہے جب سے رنجش ہماری ختم ہوئی اب ...

مزید پڑھیے

نیم پاگل تو میں ہوں تم مجھے سارا کر دو

نیم پاگل تو میں ہوں تم مجھے سارا کر دو آنکھ بپھرا ہوا دریا ہے کنارا کر دو اک ضعیفہ ہے گھنا دشت ہے اک جھونپڑی ہے ایک بیٹے ہی کو بڑھیا کا سہارا کر دو کوئی تبدیلی نہ آئے اگر اطوار میں تو سارے بچوں کو نصیحت ہی دوبارہ کر دو چاند ہر حال میں سرگوشی کرے گا تجھ سے چھت سے تم اس کو اگر ایک ...

مزید پڑھیے

کرب کیا ہے تجھے بتاتا ہوں

کرب کیا ہے تجھے بتاتا ہوں درد بو کر میں غم اگاتا ہوں ایک دیدار کے لیے ان کی دھول آنکھوں میں ڈال آتا ہوں شعر کہنا بہت ہی مشکل ہے روز دو پاؤ خوں جلاتا ہوں صرف کوزہ گری کا ماہر ہوں صرف مورت تری بناتا ہوں خون نکلے گا تیری آنکھوں سے میں تجھے کربلا سناتا ہوں ہجر کہتا ہے خون پینا ...

مزید پڑھیے

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے میں توانا شخص تھا اعصاب دھوکہ دے گئے گاؤں کی کچھ لڑکیاں اپنے گھڑے بھرنے گئیں خشک تھا پانی وہاں تالاب دھوکہ دے گئے جو نظر آتے تھے اکثر ان جبینوں پر تجھے کیا کریں ماتھے کے وہ محراب دھوکہ دے گئے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا مگر وہ اڑ گئے آج مجھ کو ...

مزید پڑھیے

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سو مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں آل نبی بھی ناز کرے اس کے بخت پر اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں آنسو بہا کے حضرت حر نے یہی کہا عباس با وفا مجھے اوج کمال دیں لکھتا ...

مزید پڑھیے

چھپ کر رویا جا سکتا ہے

چھپ کر رویا جا سکتا ہے دل بہلایا جا سکتا ہے آدم زادے عشق کی رہ میں کام بھی آیا جا سکتا ہے دن کو گرہن لگ سکتا ہے دھوپ میں سایہ جا سکتا ہے عزت ملنا مشکل ہے پر نام کمایا جا سکتا ہے نمک حرامی مادہ ہے جو خون میں پایا جا سکتا ہے آنسو پانی ہے پر اس سے شہر جلایا جا سکتا ہے غربت میں گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5038 سے 6203