قومی زبان

کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات

کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات سرحد کے پار پہنچے نہ یہ کافرانہ بات محفل یہاں سجی ہے مگر تو نہیں یہاں تیری بھی کاش ہوتی کوئی معجزانہ بات اس کو کوئی شغف ہی کہاں شاعری سے ہے محفل میں کیسے کرتے رہے شاعرانہ بات دیکھو تو ایک عام سا کم فہم سا وہ ہے دہرا رہا ہے آج بھی اس کی زمانہ ...

مزید پڑھیے

لطف آیا ہے جاں فشانی میں

لطف آیا ہے جاں فشانی میں ہجر کاٹا ہے زندگانی میں سر جھکائے ادب سے آتی ہے موت موسم کی راجدھانی ہے کیسے خوش میں دکھائی دیتا نا ذکر میرا بھی تھا کہانی میں ایک بیٹا ملا تھا منت سے مر گیا تھا وہی جوانی میں رنگ بدلا ہوا ہے آج اس کا زہر لگتا ہے یار پانی میں طے کروں گا سبھی منازل ...

مزید پڑھیے

سنیے حضور مجھ کو نہیں سادگی پسند

سنیے حضور مجھ کو نہیں سادگی پسند کچھ کچھ فسوں کے ساتھ ہے کچھ خامشی پسند رہتے ہیں سانپ بن کے مری آستیں میں جو ان دوستوں کی مجھ کو نہیں دوستی پسند ورثے میں یہ ملی تھی مجھے مہرباں مرے اس واسطے مجھے ہے بہت تیرگی پسند مجھ سے ملا تھا خواب کے عالم میں اور کہا میں بے سکوں تھا اس لیے کی ...

مزید پڑھیے

ہم تو کربل کو ہی بس دار بقا کہتے ہیں

ہم تو کربل کو ہی بس دار بقا کہتے ہیں اس کی مٹی کو سنو خاک شفا کہتے ہیں یہ تو بس مجھ سے ہی ہو جاتی ہے غفلت اکثر جو بھی کہتے ہیں بڑے میرے بجا کہتے ہیں پھینکی لکڑی تو کبھی رستہ کبھی سانپ بنا اس کو لکڑی نہیں موسیٰ کا عصا کہتے ہیں میں سزا لفظ کی تعریف بتاتا ہوں سنو منتظر ہونے کو بھی ...

مزید پڑھیے

اب زندگی سے جان چھڑانے لگا ہوں میں

اب زندگی سے جان چھڑانے لگا ہوں میں دشت اجل سے آنکھ ملانے لگانے ہوں میں جبر و جفا کچھ اس طرح سونپے گئے مجھے دیکھو یہ شہر چھوڑ کے جانے لگا ہوں میں میں چاہتا ہوں آتی رہیں تتلیاں یہاں کاغذ پہ تیرے ہونٹ بنانے لگا ہوں میں جو چاہتے ہیں جانا بصد شوق جائیں وہ سارے یہ اب چراغ بجھانے لگا ...

مزید پڑھیے

جن کے تری نظر میں پرستار لوگ ہیں

جن کے تری نظر میں پرستار لوگ ہیں میرے لیے وہ شہر کے بے کار لوگ ہیں آنکھوں کا سرخ رنگ نشانی ہے میرے دوست دیکھو قریب آ کے وفادار لوگ ہیں الزام دے رہے ہو بے سبب میاں حالانکہ وہ تو صاحب کردار لوگ ہیں اب نہ خدارا سونپنا ہم کو محبتیں ہم اپنے ہی وجود سے بیزار لوگ ہیں انور کبیر صفدر و ...

مزید پڑھیے

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے نظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے اپنے لہو کا رنگ ملا ہے بہار میں لالہ مثال شعلۂ رقصاں ہمیں سے ہے جلتا ہے اپنا خوں ہی سر بزم رات بھر اے حسن بے خبر یہ چراغاں ہمیں سے ہے ہم آج شہر یار کے معتوب ہیں تو کیا ہر دم وہ اپنے شہر میں ترساں ہمیں سے ہے رکھی ...

مزید پڑھیے

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے خامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھا داستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے انتہائے یاس میں چلتے رہے بے مدعا دیکھنے والے ہمیں ثابت قدم کہتے رہے دل فریب زندگی میں بے طرح الجھا رہا عشق کو آزاد پتھر کو صنم کہتے رہے کم ...

مزید پڑھیے

بس ایک ہی کیفیت دل صبح مسا ہے

بس ایک ہی کیفیت دل صبح مسا ہے ہر لمحہ مری عمر کا زنجیر بہ پا ہے میں شہر کو کہتا ہوں بیاباں کہ یہاں بھی سایہ تری دیوار کا کب سر پہ پڑا ہے ہے وقت کہ کہتا ہے رکوں گا نہ میں اک پل تو ہے کہ ابھی بات مری تول رہا ہے میں بزم سے خاکستر دل لے کے چلا ہوں اور سامنے تنہائی کے صحرا کی ہوا ...

مزید پڑھیے

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے نگاہ شوق نے بوسے ہر اک ادا کے لئے مہک ہے تیرے شبستاں کی بوئے زلف صبا چلی ہے باد صبا اک شکستہ پا کے لئے سنو کہ دل کو مرے اعتبار زیست نہیں رکا ہوں ایک نفس عرض مدعا کے لئے مرے خیال نے پہنا لباس حرف و ندا صریر خامہ ہے رقصاں مری نوا کے لئے دیار دل تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5039 سے 6203