کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات
کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات سرحد کے پار پہنچے نہ یہ کافرانہ بات محفل یہاں سجی ہے مگر تو نہیں یہاں تیری بھی کاش ہوتی کوئی معجزانہ بات اس کو کوئی شغف ہی کہاں شاعری سے ہے محفل میں کیسے کرتے رہے شاعرانہ بات دیکھو تو ایک عام سا کم فہم سا وہ ہے دہرا رہا ہے آج بھی اس کی زمانہ ...