قومی زبان

انکشاف ذات کے آگے دھواں ہے اور بس

انکشاف ذات کے آگے دھواں ہے اور بس ایک تو ہے ایک میں ہوں آسماں ہے اور بس آئینہ خانوں میں رقصندہ رموز آگہی اوس میں بھیگا ہوا میرا گماں ہے اور بس کینوس پر ہے یہ کس کا پیکر حرف و صدا اک نمود آرزو جو بے نشاں ہے اور بس حیرتوں کی سب سے پہلی صف میں خود میں بھی تو ہوں جانے کیوں ہر ایک منظر ...

مزید پڑھیے

یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں

یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں تجاوز کے بھی موسم میں ہم اپنی حد میں رہتے ہیں بہت محتاط ہو کر سانس لینا معتبر ہو تم ہمارا کیا ہے ہم تو خود ہی اپنی رد میں رہتے ہیں سراب و آب کی یہ کشمکش بھی ختم ہی سمجھو چلو موج صدا بن کر کسی گنبد میں رہتے ہیں سروں کے بوجھ کو شانوں پہ ...

مزید پڑھیے

گاؤں کا المیہ

جب تم لوٹو گے تو دیکھنا شہر کی ویرانیاں ابابیل کی طرح یہاں بھی اپنا ڈیرا ڈال چکی ہیں اب کسی بھی آنکھ میں پہچان کی خوشبو نہیں ہے چوباروں کے دئے کب کے بجھ چکے ہیں بہت جان لیوا سناٹا وہاں لیٹا رہتا ہے جب تم لوٹو گے تب امرائیوں میں کھڑے پیڑوں کی بے حد اداس سی گپ چپ سرگوشی سنو گے پکے ...

مزید پڑھیے

تمہارے جانے کے بعد

اکثر تمہارے جانے کے بعد دریچے کھلتے ہیں بند ہوتے ہیں شوخ لہریں سرکشی کرتی ہیں کناروں سے سانپ کے کینچل کی طرح سمندر کی لہریں سمٹتی ہیں سکڑتی ہیں اور اپنی ہی گہرائی میں ڈوب جاتی ہیں کچھ لمحے ناد کی مانند سطح پر ابھرتی ہیں اور اوجھل ہو جاتی ہیں

مزید پڑھیے

تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا

تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا رہین منت لیل و نہار ہونا تھا جو مبتلائے غم روزگار ہونا تھا تو دل پہ اپنے ذرا اختیار ہونا تھا فراق گل میں اگر دل فگار ہونا تھا تو ہر کلی کو مرا غم گسار ہونا تھا جو مجھ کو وقف غم انتظار ہونا تھا تو عہد و فعل کا کچھ اعتبار ہونا تھا تمہیں تو جلوہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ ناز سے راز و نیاز رہنے دے

نگاہ ناز سے راز و نیاز رہنے دے تبسم نگہ دل‌ نواز رہنے دے غم فراق سے دل کو گداز رہنے دے جہان عشق میں کچھ سوز و ساز رہنے دے فریب خوردۂ حسن مجاز رہنے دے اسی طرح سے حقیقت کو راز رہنے دے اٹھا نہ چہرۂ ہستی سے تو نقاب اپنی نگاہ و دل کو یوں ہی مشق ناز رہنے دے اگر یہ اصل حقیقت کے دونوں ...

مزید پڑھیے

دل سے جوش شباب جاتا ہے

دل سے جوش شباب جاتا ہے زیست سے اضطراب جاتا ہے رخ پہ ڈالے نقاب جاتا ہے ابر میں ماہتاب جاتا ہے جانے کو تو شباب جاتا ہے کر کے مٹی خراب جاتا ہے اپنا عہد شباب جاتا ہے سر سے سارا عذاب جاتا ہے رخ روشن پہ آئی ہیں زلفیں ثور میں آفتاب جاتا ہے دیکھیں گرتی ہیں بجلیاں کس پر رخ سے سرکا نقاب ...

مزید پڑھیے

کیا چاہتا ہوں

نہ تکمیل عہد وفا چاہتا ہوں نہ تجدید جور و جفا چاہتا ہوں میں اک قلب بے مدعا چاہتا ہوں ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں نہیں ہوگا کوئی بشر شوخ اتنا کوئی بے ادب اس قدر شوخ اتنا نہ موسیٰ ہوئے طور پر شوخ اتنا ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

درس خودی

شبنم کا ایک قطرہ بے بہرۂ خودی تھا ٹپکا فلک سے شب کو اور برگ گل پہ ٹھہرا اس طرح تھا چمکتا ہیرے کا جیسے ٹکڑا کرتا تھا کھیل اس سے موج صبا کا جھونکا رنگیں ہوا تھا وہ بھی جس طرح ہر کلی تھی ملتی تھیں جب بھی شاخیں رہ رہ کے تھا سنبھلتا لیتا تھا برگ گل پر دھیرے سے پھر سہارا رنگ چمن تھا ...

مزید پڑھیے

تردد میں ہیں سب کعبوں کا بت خانوں کا کیا ہوگا

تردد میں ہیں سب کعبوں کا بت خانوں کا کیا ہوگا مجھے یہ فکر ہے گمراہ انسانوں کا کیا ہوگا بہار آتے ہی پہلی بات یہ کہتے ہیں دیوانے چمن آراستہ ہے ہائے ویرانوں کا کیا ہوگا حقیقت پھر حقیقت ہے سمجھ لو سوچ لو تم بھی زباں کھولیں گے ہم جس وقت افسانوں کا کیا ہوگا غریبوں کو جگہ ملتی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4973 سے 6203