قومی زبان

آئی بہاریں مہکا گلشن

آئی بہاریں مہکا گلشن کلیاں چٹکیں مرجھایا من من ہی من میں یاد کے جھولے آنکھوں آنکھوں برسے ساون ہر تارا ہے اک چنگاری رات اندھیری کالی ناگن ہر دستوں میں ان کی مورت ذرہ ذرہ جیسے درپن دل میں بسیں آنکھوں میں براجیں گھر ہے جس کا اس کا آنگن جتنی پگ سے دور ہے دھرتی اتنے من کے پاس ہیں ...

مزید پڑھیے

پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے

پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے کیا کہیے ان کے جلوے کہاں تھے کہاں نہ تھے جس راستے سے لے گئی تھی مجھ کو بے خودی اس راہ میں کسی کے قدم کے نشاں نہ تھے راز آشنا ہے میری نظر یا پھر آئنہ ورنہ وہ اپنے حسن کے خود رازداں نہ تھے کچھ بے صدا سے لفظ نظر کہہ گئی ضرور مانا لب خموش رہین بیاں ...

مزید پڑھیے

نہیں شعور نظر کسی میں

نہیں شعور نظر کسی میں ہزاروں غم ہیں مری ہنسی میں نہیں ہے معیار کوئی باقی نہ دشمنی میں نہ دوستی میں نہ چھیڑ ان کو اے جذبۂ دل وہ رو پڑیں گے ہنسی ہنسی میں پیمبر تیرگی بھی اک دن ضرور آئیں گے روشنی میں ذرا کوئی راہبر سے کہہ دے کہ راز منزل ہے گمرہی میں مذاق محفل گرا ہوا ہے نہ ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

بات ہے آپ کی غضب کی بات

بات ہے آپ کی غضب کی بات کاش فرماتے کوئی ڈھب کی بات مختلف ہے زبان دشمن و دوست ایک ہوتی نہیں ہے سب کی بات جھنجھنا اٹھے ساز دل سب کے الاماں تیرے زیر لب کی بات آشیانہ کہاں کہاں یہ قفس اب کسے یاد ہوگی جب کی بات دل نے آخر نگاہ کو ٹوکا بے ادب کہہ گیا ادب کی بات درد دل پوچھ درد والوں ...

مزید پڑھیے

تلخیٔ مے سے سر خوشی لیجے

تلخیٔ مے سے سر خوشی لیجے کم سے کم ایک بار پی لیجے شمع کی طرح رو کے جینا کیا پھول کی طرح ہنس کے جی لیجے کچھ تو لیجے بہار ہستی سے نہ سہی پھول پنکھڑی لیجئے عشق کی رفعتیں نہ ہوں رسوا دامن چاک چاک سی لیجے موت اس دور میں نہیں مشکل حوصلہ ہے تو زندگی لیجے شعر میں لوگ کیا نہیں کہتے آپ ...

مزید پڑھیے

عہد وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں

عہد وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں ہم ان کو حال دل نہ سنائیں تو کیا کریں جن سے نہیں ہے آپ کی منزل کو واسطہ ان راستوں سے لوٹ نہ جائیں تو کیا کریں وہ ہر طرف ہیں سمت کی جب قید ہی نہیں دیر و حرم میں سر نہ جھکائیں تو کیا کریں محکم ہے ربط عشق تو نزدیک و دور کیا آئیں تو کیا کریں وہ نہ آئیں ...

مزید پڑھیے

یہی میراث میں ہیں ملنے والے

یہی میراث میں ہیں ملنے والے یہ خالی گھر ہیں یہ ان کے قبالے ذرا سا خط انہیں لکھنا ہے مشکل بہت سے لکھ دیے ہوں گے مقالے وہ دیوانے وہ پیاسے اب کہاں ہیں گریباں چاک تھے پاؤں میں چھالے لٹا کر دولت دنیا کسی پر کہا مجھ سے “یہ غم ہیں تو اٹھا لے نہیں ہے ہم زباں بچوں میں کوئی کتب خانہ کروں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رخ سے مجھے لطف جستجو آئے

ہر ایک رخ سے مجھے لطف جستجو آئے ذرا وہ اور قریب رگ گلو آئے مآل ناز خودی کیا ہے یہ تو سمجھا دوں جسے ہو ناز خودی میرے روبرو آئے بغیر اذن ہی ساقی نے کر لیا قبضہ ہمارے واسطے جب ساغر و سبو آئے قدم قدم پہ ہے خوددارئ حیات کا ڈر مری زبان پہ کیا حرف آرزو آئے تری فضائے محبت ہو خوش گوار ...

مزید پڑھیے

خرد کے راستے میں ایک موڑ ایسا بھی آیا تھا

خرد کے راستے میں ایک موڑ ایسا بھی آیا تھا جہاں ہر آدمی انساں نہ تھا انساں کا سایہ تھا مصیبت نے ہمیں ایک آئنہ خانہ دکھایا تھا کہ جس میں مخلصوں کا ایک اک چہرہ پرایا تھا مٹائی تھی جنہوں نے لعنت دار و رسن پہلے انہی کو یار لوگوں نے صلیبوں پر چڑھایا تھا زمانہ کپکپاتا تھا تمہاری سرد ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی یہ دن بھی دیکھیں گے

کیا خبر تھی یہ دن بھی دیکھیں گے خون بوئیں گے صبر کاٹیں گے کس کو منصف کہیں کسے قاتل بچ رہے کل تلک تو سوچیں گے میں اگر یوں ہی سر اٹھاتا رہا لوگ اپنے ہی بت کو پوجیں گے آپ اپنا بھی جائزہ لے لیں ہم تو اپنی سزا کو پہنچیں گے قوم مذہب زمین رنگ زباں یوں ہی کب تک لکیریں کھینچیں گے کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4974 سے 6203