قومی زبان

نظم

پرندے لاکھ آسودہ رہیں سونے کے پنجروں میں مگر آزادیٔ فردا کی خواہش جاگتی رہتی ہے سینوں میں نگاہیں مضطرب کہتی ہیں کوئی آئے شعور جاں فزا سے تیلیاں پنجروں کی توڑے یا ذرا دروازہ کھولے اڑائے پر شکستہ کو وہ چمکتی روشنی شاید کوئی آیا نہیں کوئی نہیں آیا نہ آئے گا پرندے خود ہی اپنا زور ...

مزید پڑھیے

سر سنگیت

سر سنگیت تال و سر سب سمے کا روپ مور ہاتھی مرگ نرسہم سب گتی پر تال کی ناچا کریں اور پرم آنند میں جھوما کریں تا تا دھن دھن تا تا دھن دھن تال جوڑے تال توڑے سر کے سارے بھید سر سمائے انگ انگ سر کے قیدی صوت و آہنگ کیا سمندر کیا حجر اور کیا شجر جن و پری زاد و بشر بے زباں مضراب و تار و بانس و ...

مزید پڑھیے

مہربان

بہ ہر حال احسان کرتے ہیں ہم پر کبھی دوستی سے کبھی دشمنی سے کبھی جان و دل سے کبھی بے دلی سے کبھی موت سے اور کبھی زندگی سے الجھتے چلے جاتے ہیں ہر قدم پر غلط گوئی کی معذرت بھی کریں گے اگر اتفاقاً کبھی سامنا ہو دعائیں بھی لے لو ستائش بھی سن لو نمائش کی خاطر جئیں گے مریں گے چھپائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

سچ

نہ میرے پاؤں کی انگلی انگوٹھے سے بڑی ہے نہ میرے ہاتھ کی وہ لکیر کہیں سے بھی کٹی ہوئی ہے پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو تم میں اور مجھ میں یہ انتر ایسا کیوں ہے میں جو کہتی ہوں وہ غلط ہے تم جو کرتے ہو وہ سچ ہے

مزید پڑھیے

میرے اس کے درمیاں یہ فاصلہ اپنی جگہ ہے

میرے اس کے درمیاں یہ فاصلہ اپنی جگہ ہے آہٹوں اور دستکوں کا سلسلہ اپنی جگہ ہے سینۂ آواز میں ہے برف کی تلوار گم بے صدا گنبد کا لیکن مسئلہ اپنی جگہ ہے میں چمکتی ریت کی اٹکھیلیوں کا ہوں اسیر ایڑیوں کا اضطرابی مشغلہ اپنی جگہ ہے خود فریبی کا بھرم ٹوٹا چلو اچھا ہوا اونگھتی بیداریوں ...

مزید پڑھیے

ہم تہ دریا طلسمی بستیاں گنتے رہے

ہم تہ دریا طلسمی بستیاں گنتے رہے اور ساحل پر مچھیرے مچھلیاں گنتے رہے ناتواں شانوں پہ ایسی خامشی کا بوجھ تھا اپنے اس کے درمیاں بھی سیڑھیاں گنتے رہے بزم جاں سے چپکے چپکے خواب سب رخصت ہوئے ہم بھلا کرتے بھی کیا بس گنتیاں گنتے رہے بانس کے جنگل سے ہو کے جب کبھی گزری ہوا اک صدائے گم ...

مزید پڑھیے

شاید مری نگاہ میں کوئی شگاف تھا

شاید مری نگاہ میں کوئی شگاف تھا ورنہ اداس رات کا چہرہ تو صاف تھا اک لاش تیرتی رہی برفیلی جھیل میں جھوٹی تسلیوں کا امیں زیر ناف تھا بوسوں کی راکھ میں تھے سلگتے شرار لمس چہرے کی سلوٹوں میں کوئی انکشاف تھا دوزخ کے گرد گونگے فرشتے تھے محو رقص اور پسلیوں کی ٹیس پہ میلا غلاف ...

مزید پڑھیے

اس سفر میں نیم جاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں

اس سفر میں نیم جاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں اور زیر سائباں میں بھی نہیں تو بھی نہیں زہر میں ڈوبی ہوئی پرچھائیوں کا رقص ہے خود سے وابستہ یہاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں ناتمامی کے شرر میں روز و شب جلتے رہے سچ تو یہ ہے بے زباں میں بھی نہیں تو بھی نہیں زرد لفظوں کے دھندلکے شام کی ...

مزید پڑھیے

مسئلہ یہ تو نہیں کہ سن رسیدہ کون تھا

مسئلہ یہ تو نہیں کہ سن رسیدہ کون تھا ہاں مگر محفل میں تیری برگزیدہ کون تھا فیصلہ جس کا بھی تھا تیرا نہیں میرا سہی وقت رخصت سر جھکائے آبدیدہ کون تھا ایک قطرے کی طلب اور تھا سمندر سامنے بزم یاراں میں بھلا وہ بد عقیدہ کون تھا تم بھی تھے سرشار میں بھی غرق بحر رنگ و بو پھر بھلا ...

مزید پڑھیے

تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا

تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا لیکن یہ استعارہ بھی منظوم کب ہوا واقف کہاں تھے رات کی سرگوشیوں سے ہم بستر کی سلوٹوں سے بھی معلوم کب ہوا شاخ بدن سے سارے پرندے تو اڑ گئے سجدہ ترے خیال کا مقسوم کب ہوا سنسان جنگلوں میں ہے موجودگی کی لو لیکن وہ ایک راستہ معدوم کب ہوا نسبت مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4972 سے 6203