سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے
سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے مری آوارگی کو میرا گھر واپس بلاتا ہے میں جب بھی دائروں کو توڑ کر باہر نکلتا ہوں ہوا کے ناتواں جھونکے کا ڈر واپس بلاتا ہے اسی کے حکم پر اس کو میں تنہا چھوڑ آیا تھا خدا جانے مجھے وہ کیوں مگر واپس بلاتا ہے اشارے کر رہا ہے دوریوں کا کھولتا ...