قومی زبان

سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے

سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے مری آوارگی کو میرا گھر واپس بلاتا ہے میں جب بھی دائروں کو توڑ کر باہر نکلتا ہوں ہوا کے ناتواں جھونکے کا ڈر واپس بلاتا ہے اسی کے حکم پر اس کو میں تنہا چھوڑ آیا تھا خدا جانے مجھے وہ کیوں مگر واپس بلاتا ہے اشارے کر رہا ہے دوریوں کا کھولتا ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا ہونا ہی تھا

رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا ہونا ہی تھا وہ بھی آخر میرے جیسا ہو گیا ہونا ہی تھا دشت امکاں میں یہ میرا مشغلہ بھی خوب ہے روزن دیوار چہرہ ہو گیا ہونا ہی تھا ڈوبتا سورج تمہاری یاد واپس کر گیا شام آئی زخم تازہ ہو گیا ہونا ہی تھا عہد ضبط غم پہ قائم تھا دم رخصت مگر وہ سکوت جاں بھی دریا ہو ...

مزید پڑھیے

اندھیرے میں تجسس کا تقاضا چھوڑ جانا ہے

اندھیرے میں تجسس کا تقاضا چھوڑ جانا ہے کسی دن خامشی میں خود کو تنہا چھوڑ جانا ہے سمندر ہے مگر وہ چاہتا ہے ڈوبنا مجھ میں مجھے بھی اس کی خاطر یہ کنارہ چھوڑ جانا ہے بہت خوش ہوں میں ساحل پر چمکتی سیپیاں چن کر مگر مجھ کو تو اک دن یہ خزانہ چھوڑ جانا ہے طلوع صبح کی آہٹ سے لشکر جاگ جائے ...

مزید پڑھیے

کتنی مجبور ہے مت پوچھئے حالت میری

کتنی مجبور ہے مت پوچھئے حالت میری جاگتی آنکھ میں سو جاتی ہے قسمت میری رات کے پچھلے پہر فکر سے لڑتے لڑتے آج پھر ہار گئی نیند سے راحت میری آرزو عشق وفا لطف و کرم بے معنی ہائے کس کام کی ہے دوستو دولت میری سرخ رو ہونے ہی والی ہے خطائے گندم اٹھنے والے ہے پشیمانی سے شہرت ...

مزید پڑھیے

سانس چڑھتی ہوئی اترتی ہوئی

سانس چڑھتی ہوئی اترتی ہوئی زندگی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی ہر طرف موت ہی کی دستک ہے دل کی آواز کیوں ہے مرتی ہوئی گہری تاریکیوں میں جگنو سی آنکھ کھلتی ہے اپنی ڈرتی ہوئی کلمۂ حق لبوں پہ جاری رکھ روشنی سی ہو کچھ ابھرتی ہوئی کیا قیامت کا دن نکل آیا جلتے سورج سے گرم دھرتی ہوئی صبر صورت ...

مزید پڑھیے

ہر صدا سوئے فلک عرش سے ٹکراتی ہے

ہر صدا سوئے فلک عرش سے ٹکراتی ہے دل کی آواز بہت دور تلک جاتی ہے کس قدر آگ ہے اس عشق کی چنگاری میں جب بھڑکتی ہے تو پتھر کو بھی پگھلاتی ہے اس قدر دھول اڑائی ہے غم دنیا کی گردش فکر بھی آتے ہوئے شرماتی ہے میں نے دیکھا ہے کئی مرد قلندر کی حیات تاج شاہی کی انا پاؤں سے ٹھکراتی ہے جسم ...

مزید پڑھیے

زندگی باندھی گئی ہے جب ہوا کی ڈور سے

زندگی باندھی گئی ہے جب ہوا کی ڈور سے میں نے طوفاں کو دبا رکھا ہے اپنی اور سے روز و شب کی آڑی ترچھی سی کئی پرچھائیاں شام جیسے بیٹھی ہو کاجل لگا کر بھور سے تھرتھراتے ہونٹ پر کچھ ٹوٹتے الفاظ ہیں دل دھڑکتا جا رہا ہے اور بھی کچھ زور سے سرخ آنکھوں کی لکیروں نے نچوڑا دل کا خوں ریت کے ...

مزید پڑھیے

آپ ناراض ہیں اور ہم بھی تو شرمندہ ہیں

آپ ناراض ہیں اور ہم بھی تو شرمندہ ہیں دونوں دن رات تڑپتے ہیں مگر زندہ ہیں شاخ مژگاں پہ ابھر آئے ہیں کچھ نقش جمال ذہن کی خاک میں چہرے کئی تابندہ ہیں شبنمی رات کے پھولوں نے اتارے ہیں لباس گرم پوشاک میں سورج کے نمائندہ ہیں دل کی دھڑکن بھی وہی سانس کے نغمے بھی وہی ہر رگ و ریشے ترے ...

مزید پڑھیے

عجیب شخص ہے تیور ہے باغیانہ سا

عجیب شخص ہے تیور ہے باغیانہ سا بنائے رکھتا ہے سولی پہ آشیانہ سا عجیب شوق ہے شوق وصال بھی اس کا گلال چہرہ تبسم ہے فاتحانہ سا نگاہ ناز لیے خواب خواب صورت ہے ہر آدمی ہے یہاں گمشدہ فسانہ سا تصورات کے بت ٹوٹتے بکھرتے ہیں ہر اک جمود پہ لگتا ہے تازیانہ سا تڑپتی مچھلی کی آنکھیں پھڑک ...

مزید پڑھیے

اک دیا جل رہا ہے ہوا تیز ہے

اک دیا جل رہا ہے ہوا تیز ہے دل مگر کانپتا ہے ہوا تیز ہے عارضوں کے پر پنکھ کیا ہو گئے شوق محو دعا ہے ہوا تیز ہے ایک جھونکے میں خوشبو کہاں اڑ گئی کون سا گل کھلا ہے ہوا تیز ہے دشت در دشت اڑتی ہوئی خاک میں زندگی لاپتہ ہے ہوا تیز ہے کہہ رہی ہیں سمندر کی خاموشیاں میرے سینے میں کیا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4970 سے 6203